بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

’’ لن يفلح قوم ولّوا أمرهم امرأة ‘‘ کا حوالہ؟


سوال

’’ لن يفلح قوم ولّوا أمرهم امرأة ‘‘بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں؟

جواب

 صحیح بخاری میں ہے:

" حدثنا عثمان بن الهيثم حدثنا عوف عن الحسن عن أبي بكرة قال: لقد نفعني الله بكلمة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم أيام الجمل بعد ما كدت أن ألحق بأصحاب الجمل، فأقاتل معهم قال: لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أهل فارس قد ملكوا عليهم بنت كسرى، قال:«لن يفلح قوم ولّوا أمرهم امرأة». "

ترجمہ: "حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ جمل کے زمانے میں اللہ نے مجھے ایک فرمان کی وجہ سے نفع پہنچایا جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا تھا  ... وہ یہ کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ اہلِ فارس نے کسری کی بیٹی کو سلطنت کی حکمرانی دے دی ہے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے حکمرانی کسی عورت کے سپرد کی ہو۔"

(صحيح البخارى، كتاب المغازي، باب كتاب النبي صلي الله عليه وسلم إلى كسرى و قيصر. (4/ 1610) برقم (٤١٦٣)، ط/ دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت)

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"قال الخطابي : في الحديث أن المرأة لا تلي الإمارة ولا القضاء ... والمنع من أن تلي الإمارة والقضاء قول الجمهور".

ترجمہ: "امام خطابی نے فرمایا کہ امارت (حکمرانی) اور قضا کے منصب پر عورت فائز نہیں ہوسکتی، اور یہی جمہور کا قول ہے۔"

(فتح البارى، (8/ 128)، ط/ دار المعرفة - بيروت)

شرح السنۃ للبغوی میں ہے:

" قال الإمام: اتفقوا أن المرأة لا تصلح أن تكون إماماً و لا قاضياً؛ لأن الإمام يحتاج إلى الخروج لإقامة أمر الجهاد و القيام بأمر المسلمين، و القاضي يحتاج البررز لفصل الخصومات، و المرأة عورة لا تصلح للبروز، و تعجز لضعفها عند القيام بأكثر الأمور؛ ولأن المرأة ناقصة، و الإمامة و القضاء من كمال الولاية، فلا يصلح لها إلا الكامل من الرجال. "

(شرح السنة، باب كراهية تولية النساء،  (10/ 77)، ط/ المكتب الإسلامي - دمشق، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100344

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں