بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

درود شریف ’’ اللهم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، والسلام كما قد علمتم ‘‘ کا حوالہ


سوال

 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:قلنا يا رسول الله، كيف نصلي عليك ؟ قال : قولوا : اللهم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏‏‏وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، والسلام كما قد علمتم .

ترجمہ :ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: یوں کہو: اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت و برکت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت و برکت نازل فرمائی تھی، بلاشبہ تو قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔“  (شرح مشكل الاثار للطحاوي : 75/3، و سنده صحيح)۔

اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وهذا الإسناد إسناد صحيح على شرط الشيخين . ”یعنی یہ سند امام بخاری و مسلم رحمها اللہ کی شرط پر صحیح ہے۔“ (جلاء الافهام في فضل الصلاة علي محمد خير الانام:44) ۔

علامہ مقریزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وهذا الإسناد صحيح على شرط البخاري و مسلم . ”یعنی یہ سند ، امام بخاری و مسلم رحمها اللہ کی شرط پر صحیح ہے۔“ (إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع : 37/11).

کیا یہ درود پاک،  حدیث سےثابت ہے؟

جواب

مذكوره درود شریف   ، امام طحاوی رحمہ اللہ (المتوفى: 321ھ)  کی کتاب میں   ان کی سند کے ساتھ منقول ہے، ان کی عبارت بمع سند ملاحظہ فرمائیں : 

"حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَفَهْدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: قُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ. " 

(شرح مشكل الآثار، بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَيْفِيَّةِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، (6/ 14) برقم (2240)، ط/ مؤسسة الرسالة)

ابن قيم رحمه الله   (المتوفى: 751ھـ) نے اسی روایت کو ’’محمد بن اسحاق السراج ‘‘کی سند سے نقل فرما کر اس سند کو شیخین کی شرط پر صحیح قرارا دیا ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: 

" قَالَ مُحَمَّد بن إِسْحَاق السراج أَخْبرنِي أَبُو يحيى وَأحمد بن مُحَمَّد البرتي قَالَا أَنبأَنَا عبد الله بن مسلمة بن قعنب أَنبأَنَا دَاوُد بن قيس عَن نعيم بن عبد الله عَن أبي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ أَنهم سَأَلُوا رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم كَيفَ نصلي عَلَيْك قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صل على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد وَبَارك على مُحَمَّد وعَلى آل مُحَمَّد كَمَا صليت وباركت على إِبْرَاهِيم وَآل إِبْرَاهِيم فِي الْعَالمين إِنَّك حميد مجيد وَالسَّلَام كَمَا قد علمْتُم. وَهَذَا الْإِسْنَاد إِسْنَاد صَحِيح على شَرط الشَّيْخَيْنِ رَوَاهُ عبد الْوَهَّاب بن مندة عَن الْخفاف عَنهُ."

(جلاء الأفهام في فضل الصلاة على محمد خير الأنام، (ص:44)، دار العروبة - الكويت)

اسی طرح انہي ’’محمد بن اسحاق السراج ‘‘کی سند سے اس روايت كو علامہ مقريزى رحمہ الله (المتوفى: 845ھ) نے بھی نقل فرمایا ہے، اور اسے امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ کی شرط پر صحیح قراردیا ہے ۔

(إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع،الثانية والثمانون من خصائصه صلّى اللَّه عليه وسلّم: في كيفية الصلاة على النبي صلّى اللَّه عليه وسلّم، ( 37/11)، ط/ دار الكتب العلمية - بيروت)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144307200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں