بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک دوکاندار کا دوسری دوکان سے مال لاکر فروخت کرنا


سوال

 ایک آدمی کسی میڈیکل اسٹور والے کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے یہ گولیاں دے دو،  اور میڈیکل اسٹور والا کہتا ہے کہ میرے پاس نہیں ہیں،  میں دوسرے سٹور والے سے آپ کے لیے لے آتا ہوں۔

کیا اس  صورت میں اسٹور والے کے لیے اس میں نفع کمانا جائز ہے یا نہیں؟

مدلل جواب سے مستفید فرمائیں۔

جواب

  ایک دوکاندار کا  دوسری  دوکان سے مطلوبہ چیز خرید کر قبضہ کرنے کے بعد پھر گاہک سے  سودا کر نا ، (جیسا کہ آج کل رائج ہے) اور اس پر نفع کمانا؛  یہ  صورت  جائز ہے ؛ کیوں کہ  دوکان دار  دوسرے دوکان دار سے مطلوبہ چیز  نقد یا ادھار خرید کر پھر بیچ رہا ہوتا ہے، اور منقولی اشیاء کی خرید و فروخت  میں اس چیز کا فروخت کنندہ کی ملکیت و قبضہ میں ہونا  یا مالک کی جانب سے فروخت کرنے کی اجازت کا ہونا  شرعا ضروری ہوتا ہے۔

اسی طرح سے اگر دوکاندار آپس  میں یہ معاہدہ کرلیں کہ ہم ایک دوسرے کا سامان حسبِ ضرورت فروخت کریں گے، اور فیصدی حساب سے   کمیشن  بھی طے کرلیں ، تو یہ صورت بھی جائز ہوگی۔

البتہ اگر  دوکاندار  گاہک سے یہ کہتا ہے کہ " میرے پاس نہیں ہیں، میں دوسرے اسٹور والے سے آپ کے لیے لے آتا ہوں"  تو اس صورت میں دوکاندار کے لیے مطلوبہ دوا یا کوئی چیز دوسرے  دوکاندار  سے لاکر دینے پر نفع کمانا جائز نہ ہوگا،  کیوں کہ اس صورت میں پہلا  دوکاندار گاہک کی مطلوب چیز  کی خریداری کا وکیل ہے، اور وکیل شراء  کے لیے  موکل سے نفع کمانا کی شرعا اجازت نہیں۔

فتح القدیر لابن همام میں ہے:

"ومن اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول،٦ / ٥١٠ - ٥١١، ط: دار الفكر)

تبين الحقائق شرح كنز الدقائقمیں ہے:

 "لايجوز بيع المنقول قبل القبض؛ لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام: «إذا ابتعت طعامًا فلاتبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

( کتاب البیوع، باب التولیۃ، فصل بيع العقار قبل قبضه،٤ / ٨٠، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة) 

شرح المجلة لخالد الاتاسيمیں ہے:

"للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقاراً ... وإن كان منقولاّ فلا."

(کتاب البیوع، الباب الرابع فی بیان المسایل المعلقة بالتصرف، الفصل الاول، ٢ / ١٧٣ - ١٧٤، المادۃ: ١٥٣، ط:  مطبعة حمص) 

الجوهرۃ النیرۃ علي مختصر القدوريمیں ہے:

"(قوله: وإذا وكله بشراء شيء بعينه فليس له أن يشتريه لنفسه)؛ لأنه لما قبل الوكالة تعينت ففعل ما يتعين يقع لمستحقه سواء نوى عند العقد الشراء للموكل أو صرح به لنفسه بأن قال: اشتريت لنفسي فهو للموكل إذا إذا خالف في الثمن إلى شراء وإلى جنس آخر غير الذي سماه المؤكل ... أما إذا عينه فاشترى بأكثر مما سمي له لزم الوكيل؛ لأنه خالف إلى شراء. ... (أو يشتريه بمال الموكل) أراد به إضافة العقد إلى دراهم الموكل ولم يرد به النقد من ماله أي ليس المراد أن يشتريه بدراهم مطلقة ثم نقد المدفوعة إلى الوكيل فإن في هذه الصورة تفصيلاً وفيما إذا أضاف العقد إلى دراهم الموكل إجماع".

(كتاب الوكالة، ١ / ٢٩٧،   الناشر: المطبعة الخيرية)

بدائع الصنائع  في  ترتيب الشرائع میں ہے:

"الوكيل بالشراء أن له ولاية مطالبة المؤكل بالثمن بعد الشراء قبل أن يؤدي هو من مال نفسه لأن هناك الثمن يقابل المبيع، والملك في المبيع كما وقع وقع للمؤكل فكان الثمن عليه فكان له أن يطالبه به".

(كتاب الكفالة، فصل في بيان حكم التوكيل، ٦ / ١١ ، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144405100712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں