بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے کا والد مرحوم کی تعمیر کو منہدم کرکے تعمیر کروانا اور باہمی رضامندی سے تقسیم


سوال

میرے شوہر کی وفات کے بعد ان کے گھر کو میرے بڑے بیٹے نے منہدم کرواکے ازسرِ نَو تعمیرکیا اور چھ پورشن تعمیرکیے،جس کے لیے اس نے بینک سے قرض لے کر رقم کا بندوبست کیا۔بعدازاں تین پورشن فروخت کرکے بینک کی رقم واپس کردی گئی اور میرے چھوٹے بیٹے پر جو تھوڑا بہت قرض تھا وہ بھی میرے بڑے بیٹے نے اسی رقم سے اداکردیا ۔ اس کے بعد بڑے بیٹے نے دو پورشن خود رکھ لیے ،جب کہ ایک پورشن مجھے اور اپنے چھوٹے بھائی کو دیا(اور اسی کو والد کی جائیداد کی تقسیم سمجھاگیااور سب کی رضامندی سے ہوا)،جس میں ،میں اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھی ،میرے چھوٹے بیٹے کاگزشتہ دنوں انتقال ہوگیا۔اس کے ورثاء میں صرف ایک بیٹی ،میں (والدہ)،بیوہ اور ایک بھائی ہے۔

اب بڑے بیٹے کاکہناہے کہ اس پورشن میں (جس میں ہم رہ رہے ہیں ) میرابھی حصہ ہے اور میں عدالت جاؤں گا۔کیا شوہر کی وفات کے بعد میرے بڑے بیٹے نے جو تقسیم کی تھی وہ درست تھی ؟کیا اس پورشن میں (جس میں میں رہائش پذیرہوں)میرے بڑے بیٹے کاحصہ ہے ؟

نوٹ:شوہر کی وفات کے وقت ورثاء درج ذیل تھے :بیوہ،دوبیٹے۔شوہرکے والدین پہلے انتقال کرگئے تھے،اور یہ تعمیر بڑے بیٹے نے میری اور چھوٹے بھائی کی اجازت سے کی ہے ۔      

جواب

صورتِ مسئولہ میں بڑے بیٹے نے والد مرحوم کے  گھر کی تعمیر جب تمام ورثاء کی رضامندی سے کی اور بعد میں  مذکورہ گھر سب کی رضامندی سے اس طرح  تقسیم  ہوا  کہ دو پورشن بڑے بیٹے نے رکھ لیے اور ایک پورشن  والدہ اور چھوٹے بیٹے نے رکھ لیا،  تو اس تقسیم سے ہر ایک وارث اپنے حصے کا مالک بن گیا، لہذا مذکورہ پورشن چھوٹے بیٹے اور والدہ کے درمیان مشترک تھا   ،اس کےبعد جب چھوٹے بیٹے کا انتقال ہوا،تو والدہ کو چاہیے کہ پہلے چھوٹے بیٹے کا حصہ متعین کرلے اور اپنا حصہ  الگ کرلے،اس کےبعد چھوٹے بیٹے کا حصہ  ان کا   ترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء   میں شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگا۔

جس کا طریقہ یہ ہےکہ مرحوم بیٹےکے ترکہ میں سے سب سے پہلے  تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالے جائیں ،اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تواسے ادا کیا جائے،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کیا جائے ،باقی  تمام متروکہ جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ کےکل 24 حصے کرکے مرحوم کی بیوہ  کو 3 حصے ،ان کی والدہ کو 4 حصے ، ان کی بیٹی کو 12 حصے اور ان کےبھائی کو 5 حصے دیے جائیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: مسئلہ24

بیوہوالدہبیٹیبھائی
34125

یعنی فیصد کے اعتبارسے مرحوم کی بیوہ 12.50 فیصد، ان کی والدہ کو 16.667 فیصد ، ان کی بیٹی کو 50 فیصد  اور ا ن کے بھائی کو 20.833 فیصد حصہ دیا جائے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100358

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں