بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک برتن میں ہاتھ ڈال کر وضو کرنے کا حکم


سوال

اگر ایک بندہ پہلے استنجا ء کرے، پھر وضو کےلیے نیا پانی لے، اور اس سے وضو کرے، اس طرح کہ وضو والا پانی کسی برتن میں موجود تھا، (یعنی جگ یا لوٹے میں)اور اس نے اس پانی سے وضو اس طرح کیا کہ برتن میں ہاتھ ڈال ڈال کر وضو کیا، اور اس کے وضو کرنے کے بعد کچھ پانی بچ گیا تو اس بچے ہوۓ پانی سے کوئی دوسرا بندہ وضو کر سکتا ہے یا اسے اپنے وضو کےلیے نیاپانی  (یعنی جدید) لینا چاہیۓ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر کسی شخص نے پانی والے برتن سے ہاتھ سے پانی نکال نکال کر وضو کیا ہےجب کہ اس کے ہاتھ میں کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی تھی تو اس برتن میں بچے ہوئے پانی سے دوسرا شخص وضو کر سکتا ہے۔البتہ برتن میں ہاتھ ڈال کر وضو نہیں کرنا چاہیے۔

ابو داؤد میں ہے:

"عن عبد الله بن عمر، قال: كنا نتوضا نحن والنساء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌من ‌إناء ‌واحد ‌ندلي ‌فيه ‌أيدينا"

(‌‌كتاب الطهارة،باب النهي عن ذلك، ج: ص:60، الرقم: 79، الناشر: دار الرسالة العالمية)

”ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں (باری باری) ڈالتے تھے “

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100843

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں