بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ایڈوانس رقم دی اور اس کا حساب مہینے بعد کر نے کاحکم


سوال

دکان دار کو پیشگی رقم ادا کرکے سامان خریدتے رہنا پھر مہینہ یا سال ختم ہونے پر حساب وکتاب کرلینا جو بچ گیا ہو وہ لینا اور جو قرض ہوگیا ہے اس کو دکاندار کو دے دینا یہ کونسی بیع ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  مذکورہ بیع  کو بیع  استجرار کہتے ہیں ۔

الدر المختار  وحاشیہ ابن عابدین میں ہے :

"ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها جاز استحسانا۔۔۔(قوله: ما يستجره الإنسان إلخ) ذكر في البحر أن من شرائط المعقود عليه أن يكون موجودا، فلم ينعقد بيع المعدوم ثم قال: ومما تسامحوا فيه، وأخرجوه عن هذه القاعدة ما في القنية الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس والملح والزيت ونحوها ثم اشتراها بعدما انعدمت صح.  فيجوز بيع المعدوم هنا".

(کتاب البیوع،516/4،سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144501101367

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں