بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عیب دار مبیع کو دوسرے مشتری پر بیچنے کا حکم


سوال

میں بعض اوقات فلیٹ  کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہوں، ڈیڑھ سال پہلے میں نے ایک فلیٹ 80 لاکھ کا خریدا، فلیٹ کے کاغذات میں دراصل ریکٹیفیکیشن (کاغذی کاروائی اور فلیٹ نمبر وغیرہ)نا مکمل تھی ، جس کی وجہ سے ویلیو میں فرق آتا ہے، جب  میرا سودا ہوا تو میں نے  ان کے ساتھ یہ اگریمینٹ کرلیا کہ وہ (بیچنے والا) اس کو 5 ماہ کے اندر درست کرواکر دے گا، اور ساڑھے چار لاکھ روپے میں نے اس کے عوض اپنے پاس روکے رکھے کہ کاغذات مکمل ہونے کے بعد میں یہ ساڑھے چار لاکھ روپے ان کو دے دوں گا، فلیٹ میں نے اپنے نام کروادیا ، اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک سال سے اوپر ہوگیا ، لیکن اس نے ریکٹیفیکیشن کو ابھی تک مکمل نہیں کیا، میں نے وہ فلیٹ بیچنا تھا، لہذا کر کراکے بغیر ریکٹیفیکیشن کے میں نے بیچ دیا، اب وہ شخص( جس سے میں نے فلیٹ خریدا تھا ) وہی ساڑھے چار لاکھ روپے کا مطالبہ کررہا ہے ، لیکن ریکٹیفیکیشن اس نے ابھی تک مکمل نہیں کیا ہے، آپ صاحبان راہ نمائی فرمائیں کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مذکورہ فلیٹ کے ریکٹیفیکیشن نامکمل ہونے کی وجہ سے ساڑھے چار لاکھ روپے روکے رکھے تھےتو معاہدہ کے تحت جب تک ریکٹیفیکیشن مکمل نہ ہوتا تب تک مذکورہ رقم سائل پر دینا لازم نہیں تھی، لیکن جب سائل نے مذکورہ فلیٹ آگے فروخت کردیا تو گویا سائل پہلے والی  بیع پر اسی نامکمل حالت میں  راضی  ہوگیاہے ، لہذا مذکورہ فلیٹ کا سودا جتنی رقم پر ہوا تھااتنی رقم سائل پر بائع(بیچنے والا) کو دینا لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(باع ما اشتراه فرد) المشتري الثاني (عليه بعيب رده على بائعه لو رد عليه بقضاء) ؛ لأنه فسخ، ما لم يحدث به عيب آخر عنده فيرجع بالنقصان، وهذا (لو بعد قبضه) فله قبله رده مطلقًا في غير العقار كالرد بخيار الرؤية أو الشرط درر، و هذا إذا باعه قبل اطلاعه على العيب، فلو بعده فلا رد مطلقًا...(قوله وهذا) الإشارة إلى قوله رده على بائعه (قوله فلا رد مطلقا)أي لا بقضاء ولا رضا؛ لأن بيعه بعد رؤية العيب دليل الرضا به."

(كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5، ص:26-28، ط:سعيد)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:

"(سئل) فيما إذا اشترى زيد من عمرو جارية بثمن معلوم وقبضها المشتري ثم إن زيدا باعها من بكر وتسلمها بكر ثم إن بكرا ردها على زيد بسبب عيب بالتراضي من غير قضاء القاضي ويريد زيد الآن ردها على البائع الأول فهل ليس له ذلك؟

(الجواب) : نعم ليس لزيد ذلك ‌باع ‌ما ‌اشتراه فرد عليه بعيب رده على بائعه لو رد عليه بقضاء بعد قبضه ولو برضاه لا تنوير من باب خيار العيب ومثله في الكنز والمتون."

(كتاب البيوع، باب الخيارات، ج:1، ص:267، ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502102257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں