بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

احناف کے نزدیک تکبیرات تشریق کے کون سے الفاظ راجح ہیں؟


سوال

سوال یہ  تھا کے متحدہ عرب امارات میں تکبیرات تشریق کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

"اللہ أکبر اللہ أکبر اللہ اکبر لا إلٰه إلا اللہ و اللہ أکبر اللہ أکبر وللّٰه الحمد اللہ أکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرة و أصیلا وصل اللہ علی سیدنا محمد وعلی اٰله وصحبه وسلم تسلیما کثیرا."

 اس پر راہنمائی فرما دیجیے کہ اس کا کیا حکم ہے ۔ اور اس طرح ہمیں  پڑھنا چاہیے؟   احناف کے ہاں کون سا راجح ہے؟

جواب

تکبیراتِ تشریق  کی ابتدا میں دوبار"اللّٰه أكبر"ہے، پھر کلمۂ تہلیل(لاالہ الااللہ) کےبعد بھی دو بار  "اللّٰه أكبر" ہے، تکبیرات تشریق کےالفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

"اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ،لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ." 

اور یہی احناف  کے ہاں ثابت اورراجح  ہے،اور یہی  کلمات پڑھنے چاہییں۔

البتہ تکبیراتِ تشریق کے کلمات کے بارے میں مختلف احادیث و آثار وارد ہوئے ہیں ،شرعی اعتبار سے اس بابت کوئی تحدید ،تعیین اورالتزام نہیں ہے ؛ اسی لئے کلمات تکبیر کی افضل کیفیت کے بارے میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہوا ہے۔

احناف اور دیگراکثر اہل علم  کے یہاں مذکورہ بالاالفاظ سے تکبیرات تشریق پڑھنا افضل ہے ،یعنی شروع میں"اللَّهُ أَكْبَرُ "دو مرتبہ کہا جائے گا۔

امام شافعی کے قول جدید میں کلمات تکبیر اس طرح ہیں :

"اللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ،اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ."

یعنی شروع میں"اللَّهُ أَكْبَرُ "تین مرتبہ کہا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ حضرت جابر بن عبد اللہ کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں :

"عن جابر بن عبد الله كان رسول الله صلیٰ اللہ علیه وسلم إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول: على مكانكم، ويقول: الله أكبر الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد."

(سنن الدار قطني،2/ 390،ط:مؤسسة الرسالة)

امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان کلمات میں درج ذیل اضافہ کرنا بھی پسندیدہ ہے :

"الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا ، الله أكبر ولا نعبد إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون، لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده لا إله إلا الله والله أكبر، فحسن، وما زاد مع هذا من ذكر الله أحببته غير أني أحب أن يبدأ بثلاث تكبيرات نسقا."

(الأم،276/1،دار المعرفة)

 احناف اور دیگر اکثر اہل علم  کامستدل حضرت عبد اللہ بن مسعود کی یہ روایت ہے :

"عن عبد الله " أنه كان يكبر أيام التشريق: الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد."

(مصنف ابن أبي شيبة،1/ 490 ،ط:دار التاج ، لبنان)

"وعن شَريك قال: قلتُ لأبي إسحاقَ: كيف كان يُكبِّر عليٌّ وعبدُ الله بن مسعودٍ؟ فذكر الأثَر."
قال ابنُ الهمام: سنده جيِّد."

(فتح القدير،2/ 82،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

خلاصہ یہ ہے کہ تکبیر تشریق کے کلمات سے متعلق لازمی طور پر کوئی مخصوص طریقہ وارد نہیں ،اس سلسلہ  میں مختلف روایات ہیں ، ترجیح و تصحیح وافضلیت کا اختلاف ہے۔
احناف  اللہ اکبر دو مرتبہ کہتے ہیں ، امام شافعی تین بار کہنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"صفته (اللّٰه أكبر اللّٰه أكبر، لا إله إلا اللّٰه و اللّٰه أكبر، الله أكبر و للّٰه الحمد) هو المأثور عن الخليل.

(قوله: صفته إلخ) فهو تهليلة بين أربع تكبيرات ثم تحميدة والجهر به واجب وقيل سنة قهستاني (قوله: هو المأثور عن الخليل) وأصله أن جبريل عليه السلام لما جاء بالفداء خاف العجلة على إبراهيم فقال: الله أكبر الله أكبر، فلما رآه إبراهيم عليه الصلاة والسلام قال: لا إله إلا الله، والله أكبر فلما علم إسماعيل الفداء قال: الله أكبر ولله الحمد كذا ذكر الفقهاء ولم يثبت عند المحدثين كما في الفتح بحر أي هذه القصة لم تثبت أما التكبير على الصفة المذكورة فقد رواه ابن أبي شيبة بسند جيد عن ابن مسعود أنه كان يقوله ثم عمم عن الصحابة وتمامه في الفتح، ثم قال: فظهر أن جعل التكبيرات ثلاثا في الأول كما يقوله الشافعي، لاثبت له."

(باب العیدین،2 /178 ، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144312100212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں