بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

احمد رحمٰن نام رکھنا


سوال

"احمد رحمٰن" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

وہ اسماءِ حسنیٰ جو باری تعالی کے اسمِ ذات ہوں یا صرف باری تعالی کی صفاتِ مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوتو  ان کا استعمال غیر اللہ کے لیے کسی حال  میں بھی جائز نہیں، مثلاً :"اللہ، الرحمن،القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق وغیرہ، البتہ غیر اللہ کے لیے یہ اسماء عبد کی اضافت کے ساتھ استعمال کیے جاسکتے ہیں،یعنی اگر "رحمن" نام رکھنا ہو  تو عبدیت کی اضافت کرنا ضروری ہے، مثلاً: عبد الرحمن وغیرہ، بغیر اضافت کے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے، اس لیے "احمد رحمٰن" نام رکھنا درست نہیں ہے۔

ہاں !"احمدالرحمٰن"(اضافت کےساتھ)یہ نام رکھنا بلا شبہ درست ہے ، اس کا معنیٰ ہے:  رحمٰن کی تعریف/حمد کرنے والا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101521

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں