بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

احمد حبیب نام رکھنا


سوال

احمد حبیب نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"أحمد" حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ہے،  اس کے معنی  ہیں : اپنے رب کی زیادہ تعریف کرنے والا، اور "حبیب" صحابہ کرام کے ناموں میں سے ہے (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ،2/ 15،  ط : بیروت )  اس کے معنی ہیں : دوست، محبوب، عاشق، لہذا "أحمد حبیب " نام رکھنا جائز ہے۔

الإصابة في تمييز الصحابة  میں ہے:

"ذكر من اسمه حبيب بالمهملة والموحدتين بوزن عظيم: 1568- حبيب بن أسلم الأنصاري: ذكره ابن أبي حاتم، وقال: إنه بدري. وحكى عن أبيه أنه قال: لا أعرفه، وقال أبو عمر في ترجمة حبيب: مولى الأنصار- وقال آخرون:هو حبيب بن أسلم بني جشم بن الخزرج.  1569- حبيب بن الأسود: يأتي في الخاء المعجمة.1570- حبيب بن أسيد...الخ ."

 (2 / 13،الحاء بعدها الباء، ط: بيروت )

فیض القدیر  شرح الجامع الصغیر میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سموا بأسماء الأنبياء."

(4/ 113، باب حرف السين،رقم الحدیث:4717، ط: المكتبة التجارية)

الروض الأنف فی شرح السیرۃ النبویۃ لابن ہشام میں ہے:

"وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزّبَعْرَى أَيْضًا حِينَ أَسْلَمَ : وَلَقَدْ شَهِدْت بِأَنّ دِينَك صَادِقٌ ... حَقّ وَأَنّك فِي الْعِبَادِ جَسِيمُ ۔ وَاَللهُ يَشْهَدُ أَنّ أَحْمَدَ مُصْطَفًى ... مُسْتَقْبَلٌ فِي الصّالِحِينَ كَرِيمُ."

(7/ 247، باب ذكر الاسباب الموجبة الى مكة، ط: داراحياء التراث العربى)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144405101432

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں