بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اہل بدعت کے پیچھے نماز پڑھنا


سوال

ہمارے آفس میں ایک بریلوی شخص امامت کراتا ہے اور اکثر بدعات بھی کرتا ہے، تو کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اور کیا ہمیں اکیلے نماز پڑھنا بہتر ہے؟ مذکورہ امام صاحب پوری نماز پڑھانے کے بعد دوبارہ سے اجتماعی دعا کرتے ہیں، کیا یہ عمل صحیح ہے؟

جواب

مذکورہ شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اس لیے کسی صالح اور متبع سنت امام کے پیچھے نماز پڑھنا لازم ہے۔البتہ اگر کہیں اور باجماعت نماز کا موقع میسر نہ ہو تو مذکورہ امام کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 143409200021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں