بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اہل بيت کسے کہتے ہیں؟


سوال

اہل بيت کسے کہتے ہیں؟

جواب

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ِ مطہرات ،آپ علیہ الصلاۃ والسلام  کی  اولاد اورآپ علیہ السلام کے چھوٹے داماد حضرت علی رضی اللہ  عنہ ان سب کو اہل بیت کہا جاتا ہے۔حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ ’’معارف القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: 

"بعض ائمہ تفسیر نے اہلِ بیت سے مراد  صرف ازواجِ مطہرات کو قرار دیا ہے۔ حضرت عکرمہ و مقاتل نے یہی فرمایا ہے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آیت میں اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات کو قرار دیا، اور استدلال میں اگلی آیت پیش فرمائی{واذكرن مایتلى في بیوتكن}(رواه ابن أبي حاتم وابن جریر) اور سابقہ آیات میں"نساءالنبی"کے الفاظ سے خطاب بھی  اس کا قرینہ ہے،حضرت عکرمہ تو بازار میں منادی کرتے تھے، کہ آیت میں اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات ہیں؛ کیوں کہ یہ آیت اِن ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے،اور فرماتے تھے کہ میں اس پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں ۔
لیکن حدیث کی متعدد روایات جن کو ابنِ کثیر نے اس جگہ نقل کیا ہے اس پر شاہد  ہیں کہ اہلِ بیت میں حضرت فاطمہ اور علی اور حضرت حسن وحسین بھی شامل ہیں،  جیسے ’’صحیح مسلم‘‘  کی حدیث حضرت عائشہ کی روایت سے ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لے گئے اور اس وقت آپ ایک سیاہ رومی چادر اوڑھے ہوئے تھے، حسن بن علی آ گئے تو ان کو اس چادر میں لے لیا، پھر حسین آ گئے، ا ن کو بھی اسی چادر کے اندر داخل فرما لیا، اس کے بعد حضرت فاطمہ پھر حضرت علی مرتضیٰ ؓ آ گئے، ان کو بھی چادر میں داخل فرما لیا، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی  {انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهركم تطهيرًا} اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آیت پڑھنے کے بعد فرمایا: "اللّٰهم هٰولاء أهل بیتي". (رواہ ابن جریر)
ابن ِکثیر نے اس مضمون کی متعدد احادیثِ معتبرہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ درحقیقت ان دونوں اقوال میں جو ائمہ تفسیر سے منقول ہیں کوئی تضاد نہیں، جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ازواجِ مطہرات کی شان میں نازل ہوئی اور اہلِ بیت سے وہی مراد ہیں یہ اس کے منافی نہیں کہ دوسرے حضرات بھی اہلِ بیت میں شامل ہوں۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ  لفظ اہل بیت میں ازواج مطہرت بھی داخل ہیں؛ کیونکہ شان نزول اس آیت کا  وہی ہے، اور شان نزول کا مصداق آیت میں  داخل ہونا  کسی شبہ کا محتمل نہیں۔ اور فاطمہ وعلی وحسن  وحسین رضی اللہ عنہم  بھی ارشادنبوی علیہ السلام کے مطابق  اہل بیت میں شامل ہیں"۔

(معارف القرآن :تفسير سورة الاحزاب(7/ 139، 140)، ط.  مکتبہ معارف القرآن، طبع جديد: 1429ھ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100078

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں