بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اگر ورثاء میں صرف بیٹیاں ہو تو ان کا حصہ


سوال

بیٹیوں کے لیے وراثت میں کیا حصہ ہے اگر بیٹا نہیں ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر انتقال کرنے والے کے ورثاء میں صرف بیٹیاں ہیں، کوئی اور وارث موجود نہیں ہےتو اس کے ترکہ کا کل دو تہائی حصہ بیٹیوں کو ملے گا، جسے ان کے درمیان برابر برابر تقسیم کیا جائے گا،  اور بقیہ دیگر قریبی ورثاء کوملے گا، جن تفصیل لکھ کر دوبارہ دریافت کیا جاسکتا ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار".

(کتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:448، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101539

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں