بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اگر میں نے امتحان میں نقل کی تو میری ساری کمائی حرام ہو الفاظ کا حکم


سوال

میں ایک طالب علم ہوں،  میں نے قسم کھائی ہے کہ میں امتحان میں نقل نہیں کروں گا اور اگر میں نے امتحان میں نقل کی تو میری ساری کمائی حرام ہو۔ کیا اب میرے کمائی مجھ پر حرام ہو ئی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا ’’قسم‘‘  ہے۔ لہٰذا آپ کے مذکورہ الفاظ  ("اگر میں نے امتحان میں نقل کی تو میری ساری کمائی حرام ہو") سے قسم منعقد ہوگئی تھی۔ پھر جب آپ امتحان میں نقل کریں گے   تو قسم ٹوٹ جائے گئی، اور قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا۔

 قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے (یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم ) اور اگر ’’جَو‘‘  دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے۔ اس سال (2021ء - 1442ھ)  رمضان المبارک میں پونے دو کلو گندم کی قیمت 140 روپے تھی، احتیاطًا 150 روپے لگالیے جائیں۔

یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔ اور اگر  کوئی قسم اٹھانے والا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے، اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے  تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (المائدة: 89)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 729): 

"(ومن حرم) أي على نفسه ... (شيئا) (ثم فعله) بأكل أو نفقة .. (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 725):

"(وكفارته) هذه إضافة للشرط لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن) فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں