بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اگرعید کی نماز کی ایک یا دو رکعت نکل جائے تو بقیہ نماز پڑھنےکاطریقہ


سوال

اگر عیدالاضحیٰ کی ایک یادونوں رکعت نکل جائے تو بعد میں آنے والا مقتدی اسے کیسے پورا کرے گا؟

جواب

اگر عیدین کی نماز میں کسی کی پہلی رکعت چھوٹ جائے تو وہ امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر پہلے  ثناء، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے، پھر تین تکبیرات زوائد کہہ کر رکوع کرے، اور بقیہ نماز پوری کرے۔ یہ راجح قول ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ایک رکعت چھوٹنے کی صورت میں ثناء کے بعد قراءت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہتاہے، پھر تعوذ، تسمیہ اور سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھتا ہے تو مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ نے اس کی اجازت بھی تحریر کی ہے۔

اور اگر عیدین کی نماز کی دونوں رکعتیں چھوٹ جائیں تو امام کے سلام کے بعد کھڑےہوکر  دو رکعت عید کی نماز کے طریقہ کے مطابق ادا کرے، یعنی امام کے سلام پھیرنےکےبعد کھڑے ہو کر پہلے ثناء پڑھے، پھر تین زوائد تکبیرات کہے، پھرتعوذ پڑھے، پھر بسم اللہ، پھرسورۂ فاتحہ اور دوسری سورت یا چند آیات پڑھے، پھر دوسری نمازوں کی طرح رکوع، سجدہ وغیرہ کرکےپہلی رکعت مکمل کرے، پھر دوسری رکعت کے شروع میں بسم اللہ،سورۃ فاتحہ اور کوئی سورت یا چند آیات پڑھے، اس کےبعد تین تکبیراتِ زوائد کہیں، چوتھی تکبیر رکوع کے لیے کہہ کر رکوع میں جائے اور دوسری نمازوں کی طرح دوسری رکعت بھی پوری کرلے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں