بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اگر وضو میں پاؤں دھونے سے بخار ہوجائے تو پاؤں دھونے کا حکم


سوال

اگر وضو میں پاؤں دھونے سے بخار ہوجاتا ہو تو کیا کیا جائے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر واقعتًا  پاؤں دھونے سے بخار ہوجاتا ہے، تو  وضو میں  پاؤں دھونے کے بجائے مذکورہ عذر کی بنا  پر صرف مسح کرلے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، ولا يقدر على الماء تيمم، ولو قطع من المرفق غسل محل القطع.

(قوله: شقاق) هو بالضم. وفي التهذيب قال الليث: هو تشقق الجلد من برد أو غيره في اليدين والوجه: وقال الأصمعي: الشقاق في اليد والرجل من بدن الإنسان والحيوان، وأما الشقوق فهي صدوع في الجبال والأرض. وفي التكملة عن يعقوب: يقال بيد فلان شقوق ولا يقال شقاق؛ لأن الشقاق في الدواب: وهي صدوع في حوافرها وأرساغها مغرب.

(قوله: وإلا تركه) أي وإن لم يمسحه بأن لم يقدر على المسح تركه."

(کتاب الطهارۃ، فروع، ج:1، ص:102، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201832

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں