بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اگر والد زکات دینے کے لیے رکاؤٹ بنے تو گناہ گار کون ہوگا؟


سوال

اگرکسی لڑکی کے پاس سونا اور کچھ رقم ہویعنی صاحب نصاب ہو،مگراس کاوالداورساس سونےکوبیچنےاورزکات وقربانی کرنے نہیں دےرہےہوں ،توایسی صورت میں گناہ کس کوہوگا؟مطلب یہ کہ لڑکی کوسونابیچنےکااختیارنہیں اوراس کےعلاوہ اتنی رقم نہیں کہ زکوٰۃ اورقربانی دی جاسکے ؟

جواب

اگر کوئی  شخص صاحب نصاب ہو،یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باؤن تولہ چاندی ،یا چاندی کی مالیت کے برابر رقم ہو یا  اس کی ملکیت میں  اس  قدر ضرورت  اور استعمال سے زائد  سامان ہو، جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہو تو اس شخص پر قربانی کرنا اور سال گزرنے پر زکوۃ ادا کرنا کرنا واجب ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ لڑکی صاحب نصاب ہےتو اس پرسال گزرنے کے بعد زکوۃ دینا واجب ہے، تاہم اگر اس کے والد اور ساس زکوٰۃ کی ادائیگی  کے لیے رکاوٹ ہیں، تولڑکی کو چاہیے کہ  ان کو زکوٰۃ کی فرضیت اور قربانی کے وجوب، اللہ تعالی کے حکم کے بجا لانے کی اہمیت اور لزوم ، اور زکوٰۃ نہ دینےاور قربانی نہ کرنے  کی صورت میں اللہ تعالی کی گرفت اور عذاب سے آگاہ کرے اور ان کو سمجھانے کے ہر ممکن کوشش کرے، لیکن پھر بھی اگر وہ لڑکی کیلئے زکوٰۃ دینے اور قربانی کرنے کے لیے  رکاوٹ بنتے ہیں، تو ایسی صورت میں لڑکی گناہ گار نہیں ہوگی، بلکہ والد اور ساس ہی گناہ گار ہوں گے۔ البتہ لڑکی کو چاہیے کہ ہر سال کے حساب سے اپنی زکوٰۃ  کی رقم متعین کرکے اپنے پاس نوٹ کرے اور جب  زکوٰۃ دینے پر قادر ہوجائے تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ  ادا کرنا بھی لازم ہےاور ان سالوں کی قربانی کے حصے کےبقدر رقم صدقہ کرنا  بھی  لازم ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده «أن امرأتين أتتا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وفي أيديهما سواران من ذهب، فقال لهما: " تؤديان زكاته؟ " قالتا: لا. فقال لهما رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار؟ " قالتا: لا، قال: " فأديا زكاته» " رواه الترمذي  وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده «أن امرأتين أتتا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وفي أيديهما سواران من ذهب، فقال لهما: " تؤديان زكاته؟ " قالتا: لا. فقال لهما رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار؟ " قالتا: لا، قال: " فأديا زكاته» " رواه الترمذي"

(کتاب الزکاۃ، ج:4، ص:1294، ط:دار الکتب العلمیۃ)

در مختار علی ہامش رد المحتار میں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك ‌نصاب ‌حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك"

(كتاب الزكوة، ج:2، ص:259، ط:سعید)

الدر مع الرد میں ہے:

"(‌ومغصوب ‌لا ‌بينة ‌عليه) فلو له بينة تجب لما مضى إلا في غصب السائمة فلا تجب، وإن كان الغاصب مقرا كما في الخانية (قوله: فلو له بينة تجب لما مضى) أي تجب الزكاة بعد قبضه من الغاصب لما مضى من السنين قال ح: وينبغي أن يجري هنا ما يأتي مصححا عن محمد من أنه لا زكاة فيه لأن البينة قد لا تقبل فيه. اهـ. قال ط: والظاهر على القول بالوجوب أن حكمه حكم الدين القوي اهـ أي فتجب عند قبض أربعين درهما"

(کتاب الزكوة، ج:2، ص:266، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان من لم يضح غنيًّا ولم يوجب على نفسه شاةً بعينها تصدق بقيمة شاة اشترى أو لم يشتري، كذا في العتابية."

(کتاب الأضحية، ج:5، ص:296، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100432

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں