بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

اگر تجھے آزادی چاہیے تو تو چلی جا، میں تجھے نہیں روکوں گا، سے طلاق کا حکم


سوال

میرے شوہر کےمیرےساتھ 25سال سے لڑائی جھگڑے چل رہے ہیں ،وہ مجھ پر شک کرتے ہیں کہ میرے غیر مردوں سے تعلقات ہیں ،پچھلے سال شعبان کے مہینے میں ہماری لڑائی ہوئی، تو میں نے اُن سے کہاکہ مجھے طلاق دے دو ،اس کے جواب میں اس نے  مجھے  یہ الفاظ کہے کہ’’ اگرتجھے آزادی چاہیے توتو  چلی جا،میں تجھے نہیں روکوں گا‘‘ یہ سن کرمیں اپنے بچوں کو لے کر اپنے بھائی کے گھر چلی گئی تھی،اگلے دن اُنہوں نے بچوں کو فون کرکے مجھے واپس بلالیا،پھر میری بیٹی کی منگنی ہوگئی ،منگنی سے واپسی پر اس نے مجھے کہا کہ’’اب  اگلی صبح 11بجےتو میرا گھر چھوڑ کر چلی جانا،تو اپنے عاشق کو فون کرکے بُلا لےکہ وہ تجھے لے جائے،تجھے آزادی چاہیے‘‘ اگلےروز میں 11بجے نہیں گئی    ،تو دوپہر میں مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گھر سے باہر نکال دیا،میں اپنے پڑوس میں رات تک بیٹھی رہی ،اور اس باربھی انہوں نے  یہ الفاظ کہے تھے کہ’’تجھے آزادی چاہیے ،توتو یہاں سے چلی جا، میں تجھے نہیں روکوں گا‘‘ پھر ایک ماہ بعد ہمارا  دوبارہ جھگڑا ہو ا تو  میں نے اس سے طلاق کامطالبہ کیا،جس پر انہوں دوبارہ وہی الفاظ کہے کہ’’تجھے آزادی چاہیے ،توتو یہاں سے چلی جا، میں تجھے نہیں روکوں گا‘‘ پھر میں اپنی بہن کے  گھر چلی گئی ،ایک ہفتہ بعد وہ مجھے واپس اپنے گھر لے آئے،اب سوال یہ ہے کہ کہ کیا میرے شوہرکے اِن الفاظ سے مجھ پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟  

وضاحت:سائل  کی طلاق دینے کی  کوئی نیت نہیں تھی۔

جواب

صورتِ مسئوله میں سائلہ کے شوہر نےسائلہ کےمطالبہ پرلڑائی کےدوران   جو الفاظ کہے ہیں یعنی ’’اگر تجھے آزادی چاہیے تو تو چلی جا،میں تجھےنہیں روکوں گا ‘‘  اسی طرح گھرسےنکالنےکےوقت شوہرنےجوالفاظ ’’تجھےآزادی چاہیےتوتوچلی جا،میں تجھےنہیں روکوں گا‘‘ استعمال کیے ہیں، اور اسی طرح منگنی سے واپسی کے دوران جوالفاظ ’’اگلی صبح 11بجےتومیراگھرچھوڑکرچلی جا‘‘ استعمال کیے ہیں  اور اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو سائلہ پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،اورسائلہ کانکاح اپنےشوہرکےساتھ بدستورباقی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب .... لأنهم قسموا الكناية ثلاثة أقسام كما يأتي....  وخالفهما فخر الإسلام وغيره من المشايخ فقالوا بعضها لا يقع بها إلا بالنية اهـ وأراد بهذا بعض ما يحتمل الرد كاخرجي واذهبي وقومي؛ لكن المصنف وافق المشايخ في التفصيل الآتي فبقي الاعتراض على عبارة الكنز. وأجاب عنه في النهر بما ذكره ابن كمال باشا في إيضاح الإصلاح بأن صلاحية هذه الصور للرد كانت معارضة لحال مذاكرة الطلاق فلم يبق الرد دليلا؛ فكانت الصورة المذكورة خالية عن دلالة الحال ولذلك توقف فيها على النية. "

(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:296/ 297،ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام... (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي ."

(کتاب الطلاق،الفصل الخامس فی الکنایات فی الطلاق،ج:1،ص:374،ط:المطبعۃ الکبریٰ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں