بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

"اگر میری شادی اس لڑکی سے نہ ہوئی تو جس سے ہو گی اس کو طلاق" کہنے کا حکم


سوال

1- ایک لڑکے نے  گھر میں کہا: " اگر میری شادی اس لڑکی سے نہ ہوئی تو  میں، جس سے ہو گی اس کو طلاق دے دوں گا" اور تین بار اس نے کہا: طلاق طلاق طلاق، اس کا کیا حکم ہے؟

2- اس نے کہا: "اگر میری شادی اس لڑکی سے نہیں ہوئی تو جس سے ہوگی اس کو طلاق یا طلاق، طلاق، طلاق" تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1- صورتِ مسئولہ میں  جب مذکورہ لڑکے نے يه كها: "اگر میری شادی اس لڑکی سے نہ ہوئی تو میں، جس سے ہو گی اس کو طلاق دے دوں گا"، تو اس  کی شادی جس سے بھی ہوجائے اس لڑکی پر ان الفاظ کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی، اس لیے کہ "طلاق دے دوں گا" طلاق کی دھمکی ہے، اسی طرح  "طلاق، طلاق، طلاق" کہتے وقت کوئی  لڑکی اس لڑکے کے نکاح میں نہیں تھی،  لہذا محل نہ ہونے کی وجہ سے یہ الفاظ لغو ہیں، ان سے نہ طلاق واقع ہوئی  ہے اور نہ ہی ہوگی۔

2- اگر مذکورہ لڑکے نے یہ کہا ہے کہ: "اگر میری شادی اس لڑکی سے نہیں ہوئی تو جس سے ہوگی اس کو طلاق یا طلاق، طلاق، طلاق" تو مذکورہ لڑکی کے علاوہ کسی لڑکی سے شادی ہونے کی صورت میں اس پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی، کیوں کہ طلاق کو دوسری لڑکی سے شادی کرنے کے ساتھ معلق کر دیا ہے، تاہم "طلاق، طلاق، طلاق" کہنے اور شرط پائے جانے کی صورت میں ایک طلاق واقع ہونے کے بعد بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوں گی، کیوں کہ پہلی طلاق سے ہی منکوحہ بائنہ ہوجائے گی۔ اس کا حل یہ ہے کہ طلاق واقع ہوجانے کے بعد دوبارہ اس لڑکی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدیدِنکاح کرلے، دوبارہ نکاح سے طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اس صورت میں لڑکے کے پاس آئندہ دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1 / 472):

"إذا كان الطلاق بائنًا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144205201364

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں