بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اگر میں یہ رشتہ قبول کروں تو کافر بن جاؤں کہنے کا حکم


سوال

میں جب ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا،  اس وقت میری عمر 15 سال تھی تب میرے والدین نے مجھ سے پوچھے بغیر میری منگنی 1 سال کی بچی کے ساتھ کر دی تھی،  جو کبھی مجھے  نہ قبول تھی نہ  ہے، نہ  قبول کرپاؤں  گا۔ میرے گھر والے اپنی انا اور جھوٹی شان کو بچانے کے لیے میری بات سمجھ نہیں رہے۔ میں یہ رشتہ جو  میری رضامندی کے بغیر ہوا تھا وہ  توڑنا چاہتا ہوں  ۔ کچھ سال پہلے میں نے  اللّٰہ پاک کی قسم کھائی تھی کہ اگر میں یہ رشتہ قبول کروں تو کافر بن جاؤں۔ میری راہ نمائی کریں!

جواب

اولاد کی تعلیم وتربیت اور مناسب جگہ پر ان کا رشتہ کرانا والدین کی شرعی ذمہ داری اور اولاد کا حق ہے، ایک طرف والدین کے لیے حکم ہے کہ وہ شادی کراتے وقت اولاد کے جذبات اور ترجیحات کا خیال رکھیں، تو دوسری طرف اولاد کوبھی چاہیے کہ وہ اپنی خواہش والدین کے سامنے پیش کر کے ان کی صواب دید کو ترجیح دے، کیوں کہ زمانے کے سرد وگرم کو چکھ لینے کی بنا پر ان کا تجربہ بھی زیادہ ہے اور اولاد کے حق میں وہ شفیق و مہربان بھی ہوتے ہیں، اگر والدین کسی نامناسب جگہ رشتہ کردیں اور اولاد خواہش کے خلاف ہونے کے باوجود بھی ہنسی خوشی مان کر نبھالے تو دنیا وآخرت کی سعادتیں ان کا مقدر ہوں گی، ان شاء اللہ!  لیکن ایسی صورت میں اولاد کو شریعت نے انکار کا حق بھی دیا ہے، جب کہ والدین کو جبر کا حق نہیں، بہر صورت آپ کو اور آپ کے والدین کو  چاہیے کہ مل بیٹھ کر اور باہمی مشاورت سے کوئی بہتر صورت نکالیں، ورنہ زندگی بھر کی بے چینی اور نااتفاقی رہتی ہے،  جس سے گھر کا سکون غارت ہوجاتا ہے، آپ کے پاس رشتہ قبول نہ کرنے کی کوئی معقول و معتبر وجہ ہے تو اپنے بڑوں کے سامنے پیش کریں، خاندان کے کسی بزرگ کے ذریعے والدین تک بات پہنچائیں، بصورتِ دیگر والدین کی بات تسلیم کرلینے میں کامیابی ہے۔

باقی اگر آپ نے قسم کھائی تھی کہ اگر میں یہ رشتہ قبول کروں تو کافر بن جاؤں، تو جملہ کے کہنے کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ کا عقیدہ یہ ہو کہ ایسی قسم کھانے سے کافر ہو جاؤں گا تو آپ قسم توڑنے کی صورت میں کافر ہو جائیں گے اور اگر  ایسا عقیدہ نہ ہو تو قسم کے ٹوٹنے کی صورت میں آپ کافر نہ ہوں گے، البتہ قسم توڑنے (رشتہ قبول کرنے) کی صورت میں کفارہ ادا کرنا لازم ہو گا۔ تاہم جذبات میں اس طرح کی قسمیں نہیں کھانی چاہییں۔

الفتاوى الهندية (2/ 54):
"ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء من الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرًا فهو يمين استحسانًا، كذا في البدائع.
حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة، وهل يصير كافرًا؟ اختلف المشايخ فيه، قال: شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: والمختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط، ومع هذا أتى يصير كافرًا لرضاه بالكفر". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107201212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں