بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اگر بیوی نے اپنی زکات خود ادا کردی تو شوہر کی بھیجی گئی زکات کی رقم بیوی خود استعمال کرسکتی ہے؟


سوال

شوہر ملک سے باہر ہے اور ماہانہ pocket money(جیب خرچ) کے طور پر کچھ نہ کچھ رقم بیوی کو بھیجتا ہے ۔ بیوی اس رقم میں سے کچھ حصہ بطور زکوٰۃ کے فقراء میں تقسیم کرتی رہتی ہے ۔سال کے مکمل ہونے پر جب شوہر زکوٰۃ کی رقم بھیجتا ہے، تو کیا اتنی مقدار بیوی اس رقم میں سے اپنے استعمال کیلئے نکال سکتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر زکات بیوی کی ہےاور شوہر باہر سے رقم   زکات کی ادائیگی کے لیے بیوی کو بھیجتا ہے،جبکہ بیوی اپنی جیب خرچ سے اپنی زکات پہلے ہی ادا کرچکی ہے تو شرعا بیوی اس قدر رقم شوہر کے پیسوں سے اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔

اسی طرح اگر زکات شوہر کی ہے اور بیوی نے اس کی اجازت سے اپنے پاس سے زکات ادا کردی  ہے اور اس کے بعد شوہر زکات ادا کرنے کے لیے رقم بھیجتا ہے تو بیوی نے جس قدر رقم زکات کی مد میں اپنے پاس  سےادا کی ہے اسی قدر رقم وہ اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔ لیکن اگر بیوی نے شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کی زکاۃ ادا کی ہو تو یہ زکاۃ ادا نہیں ہوئی، دوبارہ شوہر کی اجازت سے زکاۃ اد اکرنا لازم ہے۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"المادة (1506) إذا أمر أحد غيره بأداء دين عليه لرجل أو لبيت المال ، وأداه المأمور من ماله ، فإنه يرجع على الآمر شرط الآمر رجوعه أو لم يشترط. يعني سواء شرط الآمر رجوع المأمور بأن قال: مثلا: أد ديني على أن أؤديه لك بعد. أوف ديني وبعده خذه مني أو لم يشترط ذلك بأن قال: فقط أد ديني.

المادة (1509) لو أمر واحد آخر بقوله: أقرض فلانا كذا درهما أو هبه إياها أو تصدق عليه بها وبعده أنا أعطيك ففعل المأمور ، فإنه يرجع على الآمر. أما إذا لم يشترط الرجوع بقوله مثلا أنا أعطيك أو خذه مني بعد ذلك. بل قال فقط: أعط فليس للمأمور الرجوع ولكن لو كان رجوع المأمور متعارفا ومعتادا بأن كان في عيال الآمر أو شريكه ، فإنه يرجع وإن لم يشترط الرجوع."

(البا ب الثالث فی بیان احکام الوکالۃ،ص293،ط؛نور محمد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100593

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں