بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کو معلق کیا اور بھولے سے شرط صادر ہوگئی


سوال

اگر بیوی کو کہا کہ تو اگر اپنے ماں باپ کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق، اس کے بعد وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی، لیکن بقول اس کے اس کو یہ بات بھول گئی تھی، آئندہ وہ کبھی بھی ماں باپ کے گھر نہیں جائے گی، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا غلطی سے بھول کر ماں باپ کے گھر جانے سے طلاق واقع ہو گئی ہے؟ اس کا کہنا ہے کہ یہ فعل اس سے انجانے میں سرزد ہوا ہے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کا بیوی کو یہ جملہ: "اگر اپنے ماں باپ کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق" کہنے کے بعد بیوی اگرچہ بھول کر انجانے میں ماں باپ کے گھر گئی ہے، لیکن بہر صورت تینوں طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہوچکا ہے، جس کے بعد رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

إذا وجد الشرط والمرأة في ملكه ... يقع الطلاق.

(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 126، ط: سعيد)

العناية شرح الهداية:

(ومن فعل المحلوف عليه ناسيًا أو مكرهًا فهو سواء) أي فهو ومن فعله مختارًا سواء.

(كتاب الايمان، ج: 5، ص: 65، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200974

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں