بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اگر احادیث محفوظ ہیں تو ان میں ضعیف اور موضوع روایات کیوں پائی جاتی ہیں؟


سوال

میں نے کتبِ  فضائلِ  حدیث میں پڑھا ہے کہ قرآن کی طرح حدیث کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے؛ کیوں کہ حدیث قرآن کی تفسیر ہیں ،اس  لیے جب دوست کو یہ بات بتائی تو اس نے کہا کہ حدیث کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا ،کیوں کہ کوئی حدیث صحیح اور کوئی ضعیف ہے اور کوئی حسن ہے اور کوئی کسی جھوٹے آدمی نے خود سے بیان کی ہے؟

جواب

قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:

{إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ }  [الحجر: 9]

ترجمہ: ہم نے ذکر ( قرآن کریم ) نازل کیا اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

{وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ } [النحل: 44]

ترجمہ: اور آپ پر یہ قرآن بھی اتارا ہے تاکہ جو مضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے ان کو آپ ان پر ظاہر کر دیں اور تاکہ وہ (ان میں) فکر کیا کریں ۔

اس آیت کی تفسیر میں مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’قرآن فہمی کے  مهغ حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضروری ہےحدیث کا انکار درحقیقت قرآن کا انکار ہے: وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ اس آیت میں ذکر سے مراد باتفاق قرآن کریم ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت میں مامور فرمایا ہے کہ آپ قرآن کی نازل شدہ آیات کا بیان اور  وضاحت لوگوں کے سامنے کر دیں اس میں اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کریم کےحقائق ومعارف اور احکام کا صحیح سمجھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےبیان پر موقوف ہے،  اگر ہر انسان صرف عربی زبان اور عربی ادب سے واقف ہو کر قرآن کے احکام کو حسبِ  منشاءِ  خداوندی سمجھنے پر قادر ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان و توضیح کی خدمت سپرد کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے ۔ علامہ شاطبی نے موافقات میں پوری تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے  (آیت)  وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ اور حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خلق عظیم کی تفسیر یہ فرمائی: كان خلقه القرآن  اس کا  حاصل یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےجو بھی کوئی قول وفعل ثابت ہے وہ سب قرآن ہی کے ارشادات ہیں بعض تو ظاہری طور پر کسی آیت کی تفیسر وتوضیح ہوتے ہیں جن کو عام اہلِ علم  جانتے ہیں اور بعض  جگہ بظاہر قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا،  مگر  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ  مبارک میں بطور وحی اس کا القا  کیا جاتا ہے اور وہ بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی کےحکم میں ہوتا ہے؛ کیوں کہ حسب تصریح قرآنی آپ کی کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں ہوتی، بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے  (آیت)  وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام عبادات معاملات اخلاق عادات سب کی سب بوحی خداوندی اور بحکم قرآن ہیں اور جہاں کہیں آپ نے اپنے اجتہاد سے کوئی کام نہیں ہےتو بالاخر وحی الہی سے اس پر کوئی نکیر نہ کرنے سے اس کی تصحیح اور پھر تائید کر دی جاتی ہے؛  اس  لیے وہ بھی بحکم وحی ہو جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بعثت قرآن کریم کی تفسیر وبیان کو قرار دیا ہے جیسا کہ سورہ جمعہ وغیرہ کی متعدد آیات میں تعلیم کتاب کے الفاظ سے اس مقصد بعثت کو ذکر کیا گیا ہے اب وہ ذخیرہ حدیث جس کو صحابہ وتابعین سے لے کر متاخرین محدثین تک امت کے باکمال افراد نے اپنی جانوں سے زیادہ حفاظت کر کے امت تک پہونچایا ہے اور اس کی چھان بین میں عمریں صرف کر کے روایات حدیث کے درجےقائم کر دئیے ہیں اور جس روایت کو بحیثیت سند اس درجہ کا نہیں پایا کہ اس پر احکام شرعیہ کی بنیاد رکھی جائے اس کو ذخیرہ حدیث سے الگ کر کے صرف ان روایات پر مستقل کتابیں لکھ دی ہیں جو عمر بھر کی تنقیدوں اور تحقیقات کےبعد صحیح اور قابل اعتماد ثابت ہوئی ہیں۔  اگر آج کوئی شخص اس ذخیرہ حدیث کو کسی حیلے بہانے سے ناقابل اعتماد کہتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم قرآنی کی خلاف ورزی کی کہ مضامین قرآن کو بیان نہیں کیا یا یہ کہ آپ نےتو بیان کیا تھا، مگر وہ قائم ومحفوظ نہیں رہا بہر دو صورت قرآن بحیثیت معنے کے محفوظ نہ رہا جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھی ہے وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ اس کا یہ دعوی اس نص قرآن کےخلاف ہے؛  اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص سنت رسول کو اسلام کی حجت ماننے سے انکار کرتا ہے وہ درحقیقت قرآن ہی کا منکر ہے نعوذباللٰه۔‘‘

(معارف القرآن،ج:5 ص:354 ط: ادارۃ المعارف )

باقی رہا  یہ اشکال کہ جب احادیث محفوظ ہیں تو ان میں موضوع اور ضعیف رویات کیوں ہوتی ہیں ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اللہ پاک نے قرآن کریم کی حفاظت فرمائی ہے ،لیکن اس کے باوجود یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ کتنے لوگ اس کے پڑھنے میں غلطی کرتے ہیں ،کتنے حافظوں کو بھول لگ جاتی ہے ،کتنے کاتب ہیں ،جن سے قرآن کریم کی کتابت میں غلطی ہوجاتی ہے ،کتنے لوگوں نے بد نیتی سے قرآن کریم میں تحریف کرنے کی کوشش کی ہے،تو کیا قرآن کریم کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم محفوظ نہیں ؟ظاہر ہے کہ کوئی نہیں کہتا ،اس لیے کہ جب کبھی کوئی حافظ غلط پڑھتا ہے ،یا کوئی کاتب لکھنے میں غلطی کرتا ہے ،یا کوئی بے دین تحریف کی کوشش کرتا ہے تو فورا ً ان کی اصلاح کی جاتی ہے اور بے دین لوگوں کی تحاریف کی تردید کردی جاتی ہے ،اس طرح قرآن کریم کی حفاظت رہتی ہے ،تلاوت ہو یا قراءت ،کتابت ہو یا طباعت کہیں کوئی غلطی قائم نہیں رہتی ۔ بالکل یہی حال احادیث مبارکہ کا ہے ،جب کسی راوی سے حدیث میں بھول چوک ہوتی ہے تو محدثین کرام حفاظت حدیث کی خدمت انجام دیتے ہیں ،مبتدعین اور ملحدین جب روایت گھڑنے یا اس میں تحریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو محدثین اس کی نشان دہی کرتے ہیں ،جس وقت سے جعلی اور موضوع احادیث کا سلسلہ شروع ہوا ، اسی وقت سے محدثین اور مجتھدین نے اپنی تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز رکھیں کہ موضوعات کا یہ ذخیرہ کسی راہ سے احادیث کے معتبر اور قابل اعتماد ذخیروں میں نفوذ نہ کرے ،حضرات محدثین نے صحیح اور غیر صحیح کو ایک دوسرے سے ممیز کرنے کے لیے اصول و ضوابط بنائے ،جھوٹے اور سچے راویوں کی پہچان کے لیے علم اسماء الرجال ایجاد کیا ،کھرے کھوٹے میں تمییز کےلیے علم جرح و تعدیل مدون کیا ،ایک ایک حدیث کو جانچا اور ایک ایک راوی کو پر کھا ،موضوع اور ضعیف روایات کو الگ کردیا اور صحیح اور معتبر روایات کو علیحدہ کردیا ۔ غرض یہ کہ ذخیرہ احادیث میں موضوع اور ضعیف روایات کی نشان دہی یہ خود صحیح احادیث کے محفوظ ہونے کی علامت اور دلیل ہے ، محدثین کرام کی ان محنتوں کی وجہ سے آج ایک مسلمان کے دل کو سنت اور احادیث کی صحت کے بارے میں ا س حد تک اطمینان ہوجاتا ہے کہ قریب قریب یقین کے درجہ کو پہنچ جاتاہے ۔ اس موضوع سے متعلق مزید تفصیل کے لیے کتاب ’’دین اسلام میں سنت وحدیث کا مقام ‘‘ (جو کہ ڈاکٹر مصطفی حسنی سباعی کی کتاب  ’’ السنة و مكانتها في التشریع الإسلامي ‘‘ کا ترجمہ ہے) کا مطالعہ کریں، اسی طرح ’’ حفاظت حدیث و حجیت حدیث ‘‘ ( تالیف مولانا محمد فہیم عثمانی ) کا مطالعہ کریں۔ فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144204200122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں