بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

آغاخان ہسپتال کے ساتھ کاروبار کرنے کا حکم


سوال

میں آغا خان ہسپتال کے ساتھ کاروبار کرنا چاہتا ہوں اور میں عالم ہوں،  کیا میرے لیے ان سے کاروبار کرنا درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کے لیے مذکورہ ہسپتال کے ساتھ جائز کاروبار کرنا جائز ہے۔

حجة الله البالغة  میں ہے:

"واعلم أنه يجب في كل مبادلة من أشياء عاقدين وعوضين، والشيء الذي يكون مظنة ظاهرة لرضا العاقدين بالمبادلة، وشيء يكون قاطعا لمنازعتهما موجبا للعقد عليهما.

ويشترط في العاقدين كونهما حرين، عاقلين، يعرفان النفع والضرر، ويباشران العقد على بصيرة وتثبت. .، وفي العوضين كونهما ما لا ينتفع به، ويرغب فيه، ويشح به، غير مباح، ولاما لا فائدة معتدا بها فيه، وإلا لم يكن مما شرع الله لخلقه وكان عبثا أو مرعيا في فائدة ضمنية لا يذكرها في الظاهر."

(من أبواب ابتغاء الرزق، ج2، ص162، دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407100773

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں