بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

افزائش نسل رکوانے کے لیے نس بندی کا حکم


سوال

پہلی اولاد کے بعد زوجہ کے یا خود کے اصرارپرافزائش نسل روکوانے کے کسی بھی قسم کا طریقہ اختیارکریں بغیرکسی عذر کے توکیا کوئی بھی عمل جوافزائشِ نسل رکوانےکاباعث بنےکیاوہ عمل اختیار کرناجائزہوگایانہیں، شرعی حکم کیا ہے اس سلسلے میں۔

جواب

بغیرکسی شرعی عذر کے کوئی بھی ایسا عمل جو مستقل طورپر نسل بندی کے لیے ہو شرعاً ناجائز اورحرام ہے اوراس میں کفرانِ نعمت اورحدوداللہ سے تجاوز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200548

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں