بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

افغان نام رکھنا


سوال

افغان نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"افغان"پختون اور افغانستان کی قوم کا علم(فرہنگ آصفیہ ،ج1،ص186،ط؛اردو سائنس بورڈ)یہ نام افغان قوم کی علمیت کے طور پر استعمال ہوتا ہے،جس کا اطلاق افغان  قوم کے ہر شخص پر ہوتا ہے،یہ نام رکھنے سے نام کامقصد مخصوص فرد کی علمیت بے فائدہ ہے،اس لیے یہ نام رکھنے کے بجائے  بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا کوئی بامعنی اچھانام رکھ لیاجائے،اس سلسلہ میں جامعہ کی ویب سائٹ پر تحقیق شدہ اسلامی ناموں کی فہرست موجود ہےاس میں سے بھی نام کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."

(کتاب الکراہیۃ،ج5،ص362،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں