بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں نہانے کا حکم


سوال

اعتکاف میں نہانا کیسا ہے؟

جواب

اگر معتکف پر غسل جنابت واجب ہوجائے تو اس کے لیے مسجد سے باہر نکل کر غسل کرنا ضروری ہے۔لیکن گرمی کی وجہ  سے مسجد سے باہر نکل کر معتکف کے لیے غسل کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔

اگر گرمی کی وجہ سے  غسل کی شدید ضرورت ہوتو  مسجد میں بڑا برتن رکھ کر اس میں بیٹھ کر غسل کیا جاسکتا ہے اس طور پر کہ  استعمال کیا ہوا پانی  اور چھینٹیں مسجد میں نہ گریں، یا تولیہ بھگو کر نچوڑ کر  بدن پر ملنے سے بھی ٹھنڈک حاصل ہوجائے گی۔ اس سلسلہ میں  مسجد انتظامیہ پورٹ ایبل واش روم  (صرف غسل خانے) کا انتظام بھی کرسکتی ہے کہ اسے مسجد کے اندر رکھ دیا جائے اور پانی مسجد سے باہر گرے، لیکن شدید ضرورت کے بغیر اس کے استعمال کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔

نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معتکف کو جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر بیت الخلا میں ہی دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، لیکن اسے روز کا معمول نہیں بنانا چاہیے، جب سخت ضرورت ہو تو ایسا کیا جاسکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:2، ص:445، ط:دار الفكر-بيروت):

’’(قوله: وغسل) عده من الطبيعية تبعا للاختيار والنهر وغيرهما وهو موافق لما علمته من تفسيرها وعن هذا اعترض بعض الشراح تفسير الكنز لها بالبول والغائط بأن الأولى تفسيرها بالطهارة ومقدماتها ليدخل الاستنجاء والوضوء والغسل لمشاركتها لهما في الاحتياج وعدم الجواز في المسجد، اهـ، فافهم (قوله: ولا يمكنه إلخ) فلو أمكنه من غير أن يتلوث المسجد فلا بأس به بدائع أي بأن كان فيه بركة ماء أو موضع معد للطهارة أو اغتسل في إناء بحيث لا يصيب المسجد الماء المستعمل، قال في البدائع: فإن كان بحيث يتلوث بالماء المستعمل يمنع منه لأن تنظيف المسجد واجب اهـ .‘‘

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144209201868

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں