بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کے دوران آن لائن کلاس لینا


سوال

کیا اعتکاف کی حالت میں آن لائن کلاس لی جا سکتی ہے، یا آن لائن لیکچر، استاد خواہ مرد ہو یا خاتون، لیا جاسکتا ہے؟

جواب

اعتکاف کا مقصد اللہ تعالی کا قرب  حاصل کرنا اور اس کی عبادت میں مشغول رہنا ہے، لہذا معتکف کو چاہیے کہ وہ نماز، تلاوت، ذکر و اذکار، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادات میں اپنا زیادہ وقت گزارے،اس کے علاوہ جو مصروفیات ہوں ان کو ترک کردے ،آن لائن کلاس بھی ترک کردے ،سب  چیزوں سے کٹ کر اللہ تعالی کی عبادت کی طرف یک سو  ہوجائے ۔ البتہ  اگر کوئی  شخص اعتکاف کے دوران  جان دار کی ویڈیو یا تصویر سے پاک آن  لائن کلاس لے گا تو اس سے  اعتکاف نہیں ٹوٹے  گا، لیکن سخت مجبوی کے بغیر اسے ترک ہی کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ شریعتِ  مطہرہ میں کسی  بھی  جان دار  چیز  کی تصویر کشی   کرنا حرام ہے ، خواہ وہ  تصویر کشی  ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعہ سے ہو یا غیر ڈیجیٹل کیمرے سے ، بہر صورت ناجائز  ہے، ویب کیمرے کا استعمال بھی شرعاً تصویر کشی کے حکم میں ہے؛ اس لیے  اگر انٹرنیٹ پر آن لائن کلاس  کی صورت میں  جان دار کی تصویر یا ویڈیو دیکھنا  یا دکھانا لازم آتا ہو  یا آن لائن کلاس ویڈیو لنک کے ذریعے  ہوتی ہو  تو اس میں جان دار کی تصویر بنانے یا دیکھنے کا گناہ  ہوگااور  رمضان میں اعتکاف کی حالت میں مسجد کے بے ادبی  کا گناہ بھی ہوگا۔

عام حالات میں بھی آن لائن   کلاس لینے کےلیے  یہ بنیادی شرط ہے کہ تعلیم  محض صوتی یعنی صرف آواز  ( آڈیو کال )  کے ذریعہ ہو ،ایک  دوسرے کی تصویر  نظر نہ آئے یعنی تعلیم کیمرے(ویڈیوکال ،لائیو ویڈیووغیرہ )کے ذریعہ  نہ  ہو، اگر دوران  کلاس   کیمرے کا ستعمال ہو تو  کیمرے کا رخ ( فوکس )غیرجاندار  چیز ( بورڈ ، کتاب وغیرہ )   پر ہو ،جاندار اشیاء پر اگر کیمرے کا رخ ہو گا تو یہ جائز نہیں ہے ۔

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ  آن لائن کلاس  مرد  لے یا عورت ، اگر جان دار کی تصویر کا دیکھنا یا دکھانا پایا جائے تو صنف مخالف ہونے کی صورت میں حجاب کے احکام کی خلاف ورزی بھی لازم آئے گی، لہٰذا اس صورت میں ایک قباحت مستزاد ہوگی۔

وفي الدر المختار:

"(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة)".

و في الرد:

"(قوله: فلو لتجارة كره) أي وإن لم يحضر السلعة، واختاره قاضي خان، ورجحه الزيلعي؛ لأنه منقطع إلى الله تعالى فلا ينبغي له أن يشتغل بأمور الدنيا، بحر".

(رد المحتار2 / 448ط:سعيد)

وفی بدائع الصنائع  للکاسانی ؒ:

" فأما صورة ما لا حياة له كالشجر ونحو ذلك فلايوجب الكراهة؛ لأن عبدة الصور لايعبدون تمثال ما ليس بذي روح، فلا يحصل التشبه بهم، وكذا النهي إنما جاء عن تصوير ذي الروح لما روي عن علي - رضي الله عنه - أنه قال: من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح، وليس بنافخ.........الخ"

(کتاب الصلاۃ ،فصل شرائط ارکان الصلاۃ ،ج:۱،ص:۱۱۵،ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201465

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں