بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1448ھ 02 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی صحت کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ہے


سوال

کیا اعتکاف کے لیے بالغ ہونا شرط ہے؟

جواب

اعتکاف کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ہے ،  بچہ   اگر سمجھدار ہے،نماز کو سمجھتا ہے ،مسجد کے تقدس کا خیال رکھتا ہے تو اس کا اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 211):

"وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108):

"وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع."

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144209201446

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں