بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا یا معانقہ کرنا


سوال

دوران اعتکاف مرد کا مسجد میں بیوی کا بوسہ لینے یامعانقہ کرنے سے اعتکاف فاسد ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  اعتکاف کی حالت میں  ہم بستری کر نا ،یا اس کے اسباب و دواعی (مثلًا بوسہ دینا ،بدن وغیرہ کا ملانا، شہوت سے چھونا ) شرعا ً  حرام  ہے ،اگر شوہر نے بیوی سے اعتکاف کی حالت میں ہم بستری کر لی  تو  مسنون یا واجب اعتکاف فاسد ہوجائے گا ،اسی طرح اگر بوسہ دینے یا معانقہ وغیرہ کرنے سے انزال ہوجائے تو اس صورت میں بھی اعتکاف فاسد ہوجائے گا اور اگر بوسہ دینے یا معانقہ وغیرہ کرنے سے انزال نہ ہوتو اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ،البتہ گناہ گار ہوگا ۔

وفي الفتاوى الهندية:

"(ومنها الجماع ودواعيه) فيحرم على المعتكف الجماع ودواعيه نحو المباشرة والتقبيل واللمس والمعانقة والجماع فيما دون الفرج والليل والنهار في ذلك سواء، والجماع عامدًا أو ناسيًا ليلًا أو نهارًا يفسد الاعتكاف أنزل أو لم ينزل، وما سواه يفسد إذا أنزل وإن لم ينزل لايفسد، هكذا في البدائع." (1/ 213ط:دار الفكر)

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"(وبطل بوطء في فرج) أنزل أم لا (ولو) كان وطؤه خارج المسجد (ليلًا) أو نهارًا عامدًا (أو ناسيًا) في الأصح لأن حالته مذكرة (و) بطل (بإنزال بقبلة أو لمس) أو تفخيذ ولو لم ينزل لم يبطل وإن حرم الكل لعدم الحرج.(رد المحتار2/ 450ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209202176

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں