بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کے مسائل


سوال

اعتکاف کے مسائل بتا دیں۔

جواب

  • ہر محلہ کی مسجد  میں اعتکاف کرنا اہلِ محلہ کے ذمے سنتِ مؤ کدہ علی الکفایہ ہے،  اگر تمام محلہ والوں میں سے کوئی بھی اس سنت کو ادا نہ کرے تو سب  اس سنت کے چھوڑنے والے  اور گناہ گار ہوں گے۔
  • سنت اعتکاف کا وقت رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اس لیے معتکف کو بیسویں روزے کا سورج غروب ہونے سے پہلے نیت کرکے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہونا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص بیس رمضان کو سورج غروب ہوتے ہی اعتکاف میں نہ بیٹھ سکا، بلکہ اگلے دن یعنی اکیسویں رمضان سے اعتکاف کرتاہے تو یہ مسنون اعتکاف نہیں کہلائے گا، بلکہ یہ نفلی اعتکاف ہوگا۔
  • جس شخص نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا ہو، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ عید کی نماز ادا کرکے گھر لوٹے۔
  •  معتکف وضو كرنے كے ليے مسجد سے باهر نكلے تو اس کے لیے  وضو سے پهلے يا اس كے دوران  هي جلدی سے   صابن سے هاتھ،  منہ  دھولینے کی گنجائش ہے، البتہ خاص ہاتھ ، منہ دھونے کے لیے باہر نکلنا یا  وضو کرنے کے بعد اس کے لیے رکنا جائز نہیں ہوگا، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
  • اگر معتکف پر غسلِ  جنابت واجب ہوجائے تو اس کے لیے مسجد سے باہر نکل کر غسل کرنا ضروری ہے۔  لیکن صرف گرمی کی وجہ  سے  یا جمعہ کے غسل کے لیے مسجد سے باہر نکل کر معتکف کے لیے غسل کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
  • درج ذیل امور سے  واجب اور مسنون اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے:

    ١۔ کسی  طبعی  یا شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا۔

    ٢-روزہ نہ رکھنا یا توڑدینا۔

    ٣۔ حالتِ اعتکاف میں مباشرت کرنا۔

    ٤۔ عورت اعتکاف میں ہو تو حیض و نفاس کا جاری ہو جانا۔

    ٥۔ کسی عذر کے باعث اعتکاف گاہ سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹھہرنا۔

اس کے علاوہ  اگر کوئی مخصوص مسئلہ معلوم کرنا چاہتے ہوں تو الگ سے لکھ کر بھیج دیں، اس کا جواب آپ کو دے دیا جائے گا ان شاء اللہ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وبالتعليق ذكره ابن الكمال (وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الإنكار على من لم يفعله من الصحابة (مستحب في غيره من الأزمنة) هو بمعنى غير المؤكدة."

(کتاب الصوم، باب الاعتکاف، 442/2/ سعید)

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

"5 - يندب مكث المعتكف ليلة العيد إذا اتصل اعتكافه بها، ليخرج منه إلى المصلى، فيوصل عبادة بعبادة، ولما ورد من فضل إحياء هذه الليلة: «من قام ليلتي العيد، محتسباً لله تعالى، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب» أي أن الله يثبِّته على الإيمان عند النزع وعند سؤال الملكين وسؤال القيامة".

(المبحث الخامس ـ آداب المعتكف ومكروهات الاعتكاف ومبطلاته، آداب المعتكف، ٣ / ١٧٧٣، ط: دار الفكر) 

فتح القدير ميں ہے:

"قال العلامة المرغینانی: ولو خرج من المسجد ساعةبغیر عذر فسد اعتکافه عند ابی حنیفة لوجود المنافی وهو القیاس۔"

(کتاب الصوم، باب الاعتکاف، 395/2/ دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں