بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق کے بعد رجوع نہ کرنا


سوال

اگر ایک طلاق کے بعد رابطے میں نہ رہا تو کیا حکم ہے ؟

جواب

سوال  میں اس بات  کی وضاحت نہیں کہ شوہر نے طلاق کے صریح الفاظ سے طلاق دی یا کنائی الفاظ سے طلاق دی ،اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کے ساتھ ایک   طلاق دی تو ایسی طلاق کو  "طلاقِ رجعی"  کہتے ہیں،  طلاقِ  رجعی کے بعد  شوہر کے لیے اپنی بیوی کی  عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور  اگر حمل ہوتو بچے  کی پیدائش تک )  میں رجوع  کرنے کا حق ہوتا ہے، اگر عدت میں قولًا یا فعلاً  رجوع کرلیا یعنی زبان سے  یہ کہہ دیا کہ ’’میں نے رجوع کیا ‘‘  یا ازدواجی تعلقات قائم کرلیے یا بوس و کنار وغیرہ کرلے تو اس سے رجوع  ہوجائے گا  اور نکاح برقرار  رہے گا، اور اگر شوہر نے عدت میں رجوع نہیں کیا تو عدت گزرتے ہی  نکاح   ختم ہوجائے گا، میاں بیوی کا تعلق ختم ہوجائے گا۔

بعد ازاں  اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ  ساتھ رہنا چاہیں تو  دوگواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ، اور دونوں صورتوں میں(عدت میں رجوع کرے یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کرے) شوہر نے اگر اس  سے پہلے کوئی اور طلاق نہ دی ہو تو ایک طلاقِ رجعی دینے کی صورت میں اس کو مزید دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اور اگر دوطلاقیں صریح دیں تو آئندہ ایک طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔

اور اگر شوہر نے طلاق کے کنائی الفاظ سے طلاق دی ہو  تو اس سے بیوی پر طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ،نکاح ختم ہوجاتا ہے ،پھر  عدت میں رجوع کا حق نہیں ہوگا، البتہ  باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح کرکے دوبارہ ساتھ رہا جاسکتا ہےاور  اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو تو اس کے بعد آئندہ کے لیے باقی دو طلاقوں  کا مالک ہوتا ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 470) :

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 397):

"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة)"  

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 409):

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144212201543

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں