بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ ،دوبیٹے اور چار بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے شوہر کا انتقال ہوا ،ورثاء میں بیوہ (میں ) ،دو بیٹے اور چار بیٹیاں حیات ہیں،  مرحوم کے والدین ،دادا دادی ،نانا،نانی اور  ایک بیٹے کا  مرحوم کی زندگی میں انتقال ہوگیا تھا ۔مرحوم نے اپنی زندگی میں ایک مکان خریدا تھا اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے مکان اپنی بیوی کے نام کردیا تھا، باقی گفٹ نہیں کیا تھا، اب سوال یہ ہے کہ مرحوم کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا؟مرحوم کے مرحوم بیٹے کی اولاد (دوبیٹیاں) اور بیوہ کو مرحوم کے ترکہ میں  سے کچھ ملے گا یا نہیں ؟شریعت کی روشنی میں جواب دیکر ممنون فرمائیں ۔

جواب

صورت مسؤلہ میں  چونکہ مرحوم نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اپنا   مکان اپنی بیوی کے نام کیا تھا ،ہدیہ ( گفٹ ) نہیں کیا تھا ،لہذا یہ مکان مرحوم کی ملکیت ہی تھا اور اب ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا ،مرحوم کے ترکہ  کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ، یعنی تجہیز و تکفین (کفن ، دفن)کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم   کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم  نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کرنےکےبعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو   ۶۴    حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم   کی بیوہ کو ۸ حصے ،ہر بیٹے کو ۱۴ حصے اور ہر بیٹی کو ۷ حصے ملیں گے ،مرحوم کے مرحوم  بیٹے کی اولاد اور بیوہ کو مرحوم کے ترکہ میں سے شرعا کوئی حصہ   نہیں ملے گا ۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت:8/ 64

بیوہ بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
814147777

یعنی 100 روپے میں سے مرحوم کی بیوہ کو 12.50 روپے ،ہر بیٹے کو 21.875 روپے اور ہر بیٹی کو 10.937 روپے ملیں گے ۔

وفي حاشية ابن عابدين:

"قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة۔"

(رد المحتار5/ 689ط:سعيد) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں