بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایڈوانس رکھی ہوئی رقم پر زکاۃ


سوال

میں ایران میں رہتا ہوں اور یہاں پر رہنے کیلے ایرانی لوگ گھر نہ بیچتے ہیں اور نہ ماہانہ کرایہ پر دیتے ہیں تو ترتیب یہ ہے کہ میں نے مکان کے مالک کو دس لاکھ روپے دیے ہیں  اور میں مکان میں رہتا ہوں تو جب تک میں مکان میں رہتاہو  اس وقت تک دس لاکھ رقم اس کے پاس ہے جب میں  مکان کو چھوڑدوں گا تو وہ واپس دس لاکھ روپے مجھے دیں گے تو ابھی اسی دورانیہ میں کہ میں مکان میں رہتاہو اور میرے دس لاکھ اس کے پاس ہیں۔ اس دس لاکھ کی زکوۃ میری ذمہ لازم ہے یا نہیں ؟

جواب

کرایہ داری کے معاملہ میں زر ضمانت کے طور پر مالک کے پاس جو رقم رکھوائی جاتی ہے وہ ابتداءً امانت ہوتی ہے اوراس کااصل مالک کرایہ دارہی ہوتا ہے، اور یہ رقم کرایہ دار کو بعد میں واپس ملتی ہے، لہذا اس کی زکاۃ کرایہ دار کے ذمہ ہے، البتہ اس (رقم کی زکات) کی ادائیگی فوری لازم نہیں ہے، بلکہ  مذکورہ رقم کی وصولی کے بعد دینا لازم ہوگی، تاہم اگر زکاۃ کا سال پورا ہوجائے تو وصولی سے پہلے بھی اس کی زکاۃ ادا کرسکتے ہیں۔باقی چونکہ یہ رقم قرض ہے اور قرض سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے اس لیے قرضہ دے کر مفت رہائش رکھنا بھی ناجائز ہے۔ بلکہ رہائش کے عوض مخصوص کرایہ مقرر کر کے ادا کرنا ضروری ہے،  بصورتِ  دیگر  مذکورہ معاملہ  سود اور حرام ہوگا۔

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے :

"زکوۃ مال کی بذمہ مالکوں کے لازم ہوئی ہے امین کے ذمہ زکوۃ نہیں۔۔۔"

(ج6 / ص51)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں