بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

پیشگی روزوں کی قضا کرنا درست نہیں


سوال

کیا خواتین روزوں کی قضا ایڈوانس میں کر سکتی ہیں، یعنی ابھی روزے قضا ہوئے نہیں، لیکن پہلے سےہی سے ادا کر دے؟

جواب

واضح رہے کہ  شریعت میں قضا ایسی چیز کی ادائیگی کو کہا جاتا ہے  جو ذمہ میں لازم ہوچکی ہو اور اس کا وقت گزرنے کے بعد اسے ادا کیا جائے، جو چیز ابھی تک ذمہ میں لازم نہ ہوئی ہو، شرعاً نہ تو اس کی ادائیگی معتبر ہے اور نہ اس کی قضا درست ہے، اگر کوئی قبل الوقت ادا کرے گا تو وہ شرعاً نہ تو ادا سمجھی جائے گی اور نہ وہ قضا شمار ہوگی، وقت میں دوبارہ ادا کرنا ضروری ہوگا اور اگر وقت میں  کسی وجہ سے ادائیگی نہ ہوسکی تو وقت کے بعد اس کی قضا لازم ہوگی۔

لہذا خواتین اپنے مخصوص ایام کے روزوں کی قضا رمضان کے بعد کریں گی، اس سے پہلے قضا کی نیت سے روزے رکھنے سے آنے والےمخصوص ایام کے روزوں کی قضا نہیں ہوگی، اگر کسی نے وقت سے پہلے قضا روزے رکھے تو یہ  روزے نفل شمار ہوں گے۔

الدر المختار میں ہے:

"و القضاء فعل الواجب بعد وقته."

(حاشیة ابن عابدین، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، 95/2 ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"و سبب القضاء هو سبب وجوب الأداء، هكذا في فتح القدير. و أما سبب صوم رمضان فذهب القاضي الإمام أبو زيد فخر الإسلام و صدر الإسلام أبو اليسر إلى أنه الجزء الأول الذي لايتجزأ من كل يوم، كذا في الكشف الكبير. قال في غاية البيان: و هو الحقّ عندي، و صححه الإمام الهندي، كذا في النهر الفائق."

(کتاب الصوم،الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه،194/1 ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100114

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں