بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عدمِ استطاعت کی وجہ سے لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکرا ذبح کرنا کافی ہے


سوال

کیا لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکرا دے سکتے/کرسکتے  ہیں؟

جواب

از روئے شرع  صاحبِ حیثیت فرد کے لیے بیٹے کے عقیقہ میں دو بکرے (ذبح) کرنا مسنون ہے، تاہم اگر دو بکرے کرنے کی استطاعت نہ ہو تو ایک بکرا بطور عقیقہ ذبح کرنا بھی کافی ہے،  اس  لیے کہ بعض احادیث سے ایک بھیڑ عقیقہ میں ذبح کرنا بھی ثابت ہے۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة»: هذا حديث حسن صحيح والعمل في العقيقة على ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه «عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة» وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أيضا أنه «‌عق ‌عن ‌الحسن بشاة»".

(أبواب الأضاحي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‌‌باب الأذان في أذن المولود، ج:4، ص:97، رقم الحدیث:1514، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

ابو داود شریف میں ہے:

"عن عكرمة، عن ابن عباس، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌عق ‌عن ‌الحسن، ‌والحسين ‌كبشا كبشا»".

(كتاب الضحايا، ‌‌باب في العقيقة، ج:3، ص107، رقم الحديث:2841، طالمكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

کفایت المفتی میں ہے:

’’لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے یا دو بھیڑے یا دو بکریاں یا دو بھیڑیں ذبح کرنامستحب ہے، اگر دو کی وسعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے‘‘۔

(کتاب الاضحیۃ، والذبیحۃ، ج:8، ص:242، ط:دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنةً مؤكدةً شاتان عن الغلام، وشاةً عن الجارية، غرر الأفكار ملخصاً، والله تعالى أعلم".

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:336، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102418

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں