بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع اور جہیز میں ملکیت


سوال

میری بیوی نے عرصہ 7 سال پہلے کسی عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ کیا تھا اور مجھے عدالت میں پیش ہونے کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور پھر وہ اپنے کسی آشنا کے ساتھ  اس کی بیوی کے ناتے سے رہنے لگی. کیا میری طرف سے اسے خود بخود طلاق ہوگئی ہے یا کہ میرا طلاق دینا بنتاہے؟ اور اس کے جہیز کا سامان جو میرے گھر میں موجود ہے اس پر میرا کچھ حق جب کہ شادی کے میں نے بھی اپنے بدلے میں بیاہی ہمیشرہ کو جو اس کے بھائی کے گھر میں ہے اتنا ہی سامان دیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خلع دیگر عقودِ  مالیہ کی طرح ایک عقدِ مالی ہے، جس میں بیوی اپنے مہر کے عوض شوہر کے نکاح سے خلاصی حاصل کرتی ہے،  پس جس طرح   دیگر عقودِ  مالیہ میں عاقدین یا ان کے وکلاء کی جانب سے ایجاب و قبول شرعاً  ضروری ہوتا ہے،  بالکل اسی طرح  میاں و بیوی یا ان کے وکلاء کی جانب سے خلع میں ایجاب و قبول شرعاً ضروری ہوتا ہے،  پس اگر کسی ایک جانب سے قبول نہ پایا جائے تو شرعاً  کسی کو ان کے درمیان خلع کے ذریعہ  تفریق کا فیصلہ صادر کرنے کا حق نہیں ہوتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دعویٰ خلع کا تھا جیسا کہ عام عرف میں چلا آرہا ہے اور اس کو تنسیخ نکاح سے تعبیر کیا گیا ہے تو  شوہر کی طرف سے  عدالتی خلع کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں یک طرفہ خلع سے نکاح نہیں ٹوٹا، نکاح بدستور برقرار ہے، اور اگر تنسیخِ نکاح کا ہی مقدمہ تھا تو مسئلے کی مکمل تفصیل اور جانبین کا موقف سنے بغیر اس بارے میں حتمی جواب دینا ممکن نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ مکمل کاغذات بمع اردو ترجمہ ارسال کر کےکاغذات کی روشنی میں اپنا حتمی فتوی جان لیا جائے۔

باقی رہی بات جہیز کی، تو جہیز  بیوی کی ملکیت ہوتاہے، جو جہیز آپ کی بیوی ساتھ لائی ہے اس میں ملکیت اسی کی ہے اور اسی طرح جو جہیز آپ نے اپنی بہن کو دیا اس میں ملکیت آپ کی بہن کی ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں