بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع کی شرعی حیثیت


سوال

فقہ حنفی میں عدالت سے لی جانے والی خلع کی کیا حقیقت ہے ؟اگر بیوی عدالت میں شوہر کے خلاف وہ الزامات لگائے جنکی کوئی حقیقت نہیں ہو ،شوہر کو بلیک میل کیاہو اور ناکامی پر جج کے سامنے جھوٹ بول کر خلع کا مطالبہ کیا اور عدالت سے خلع حاصل کرلی ۔کیا اسلامی قانون اور شرعیت کے مطابق دونوں کے بیج نکاح ختم ہوگیایااب بھی دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں ہیں ۔ ایک بات واضح کردوں کہ دونوں کے درمیان خلع کوایک سال چھ ماہ کاعرصہ گزرچکاہے،لڑکی کا باپ لڑکی کی دوسری شادی کرواناچاہتاہے ۔کیادوسرا نکاح حرام ہوگا؟اگر پہلا نکاح باقی ہے تو قرآن وسنت اور شرعیت کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دے۔

جواب

واضح رہے کہ خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے جس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے ،اور شوہرکی رضامندی کے بغیر دی جانے والی خلع شرعانافذ نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر عدالت نے مذکورہ خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر دی ہے تو یہ نافذ نہیں ہوئی سائل اور اس کی بیوی کے درمیان نکاح بدستور قائم ہے اس لئے اس عورت کا کسی دوسری جگہ نکاح حرام ہے ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143409200053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے