بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عدالت سے خلع لڑکے کی رضامندی کے بغیر لینے سے نکاح کا حکم


سوال

ایک لڑکی نے عدالت سے تنسیخ نکاح بربنائے خلع لےلی، حالاں کہ اس پر لڑکا رضا مند نہیں تھا، اور اب اس لڑکی کااپنے شوہر کے ساتھ نکاح رہا یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیاوہ لڑکی پھر سے نکاح اپنے پہلے شوہر سے کرسکتی ہے، اورکب تک کرسکتی ہے؟

جواب

شوہر کی اجازت ورضامندی کے بغیر خلع کا یک طرفہ  فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔لہذا اگر شوہر اس خلع پر رضامند نہ ہو اور نہ ہی خلع کا فیصلہ قبول کیا ہو تو شرعاً خلع معتبر نہیں، نکاح برقرار رہتا ہے۔

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے :

"وأما كون الخلع بائنًا فلما روى الدارقطني في كتاب "غريب الحديث" الذي صنفه عن عبد الرزاق عن معمر عن المغيرة عن إبراهيم النخعي أنه قال: الخلع تطليقة بائنة، وإبراهيم قد أدرك الصحابة وزاحمهم في الفتوى، فيجوز تقليده، أو يحمل على أنه شيء رواه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ لأنه من قرن العدول فيحمل أمره على الصلاح صيانة عن الجزاف والكذب، انتهى."

(باب الخلع،ج:5،ص:509،دارالکتب العلمیۃ)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير."

( كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع،الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه،ج:1، ص:488، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول ‌لأنه ‌عقد ‌على ‌الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

(کتاب الطلاق ،باب الخلع، جلد:3، ص: 441، ط: دارالفکر)

’’بدائع الصنائع ‘‘  میں ہے:

"وأما ركنه: فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلاتقع  الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول." 

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق، ج:3، ص:145، ط:مطبعة الجمالية بمصر)

تبیین الحقائق میں ہے :

"ولا بدّ من قبولها؛ لأنه عقد ‌معاوضة أو تعليق بشرط فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول، ولأن المعلّق ينزل بدون الشرط إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه."

(کتاب الطلاق ، باب الخلع ج: 3 ص: 189 ط: دارالکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں