بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

تلاوتِ قرآن کریم کے آداب


سوال

قرآن مجید پڑھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟ کیا اسے پڑھتے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں اور سر ڈھانپ لیں؟ کیا قرآنِ کریم کی طرف پیٹھ کرنے سے گُریز کرنا چاہیے؟ کیا اُسے فرش پر پڑھ سکتے ہیں جب  کہ دوسرے کرسی پر بیٹھے ہوں؟

جواب

قرآن کریم  کلام اللہ ہے، اس کی تعظیم  کرنا واجب ہے، اور تلاوتِ قرآنِ کریم کے  آدا ب میں سے ہے کہ  تلاوت کرنے والا  پاک صاف  ، باوضو ہوکر، اچھے کپڑے پہن کر، قبلہ رو ہو کر   سر ڈھانپ  کر اور قرآن کریم( مصحف ) کو بلند جگہ پر اپنے سامنے  رکھ کر تلاوت کرے، قرآن کریم کی طرف پیٹھ کرنا ہمارے عرف میں بے ادبی سمجھی جاتی ہے، لہٰذا اس کی طرف جان بوجھ کر پشت کرنے سے اجتناب کیا جائے،البتہ اگر لاعلمی یا مجبوری میں پیٹھ ہورہی ہوتو  یہ بےادبی نہیں۔ نیز اگر تلاوت کرنے والے کے نزدیک کوئی شخص کرسی پر بیٹھا ہو، تو تلاوت کرنے والے کو  چاہیے کہ اُس جگہ سے ہٹ کر کچھ فاصلے (صف، دو صف کے فاصلے) پر تلاوت کرے، کرسی پر بیٹھے شخص کے قریب بیٹھ کر تلاوت کرنا بے ادبی  ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"و(كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عنالمحاذاة) فلايكره، قاله الكمال.

وفي الرد:

(قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط. ....(قوله لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية ط، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر (قوله إلا أن يكون) ما ذكر من المصحف والكتب؛(قوله: مرتفع) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلاً ط قلت: أي بما تنتفي به المحاذاة عرفاً، ويختلف ذلك في القرب والبعد، فإنه في البعد لاتنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقاً، تأمل".

(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة، وما ويكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء،1 / 655، ط: سعيد)

الفتاویٰ الہندیہ میں ہے:

"رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة؛ لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الکراهية، الباب الرابع في الصلاۃ والتسبیح ورفع الصوت عند قراءۃ القرآن، ج: 5، ص: 316، ط: رشیدیه)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144404100565

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں