بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

اَدب اور سنت کا معنی اور فرق


سوال

 ادب اور سنت میں کیا فرق ہے؟  کیا ادب پر عمل کرنے کا بھی ثواب ہے؟ نیز ادب کا بھی ثواب سنت والا ہے یا اس سے کم ہے اور ہے تو کیا ہے؟

جواب

"ادب" بہت جامع کلمہ ہے، انسانی زندگی کے طور طریق کو "ادب" کہا جاتا ہے، زندگی گزارنے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں آتے ہیں، ادب کی جامعیت حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو شامل ہے،   فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات کو انجام دینے سے  حقوق اللہ کی ادائیگی ہوتی ہے اور مخلوق کے ساتھ  جو انسان کے تعلقات ہوتے ہیں ان میں ان اَحکام کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے جو مخلوق کی راحت رسانی سے متعلق ہیں، ان میں بھی واجبات اور مستحبات ہیں اور ان کی تفصیل و تشریح بھی شریعتِ محمدیہ میں وارد ہوئی ہے، خلاصہ یہ ہے کہ دین کے تمام احکامات پر عمل کرنے اور ہر قسم کے گناہوں سے اپنے آپ کو بچانے اور  لوگوں سے معاملہ کرنے میں  اچھے اخلاق، اور عمدہ صفات سے آراستہ ہونے کو  ”ادب“ کہتے ہیں۔

ادب اپنے اس مذکورہ معنی کے لحاظ سے عام ہے، اس کی جامعیت میں سنت بھی داخل ہے۔

 سنت  کا لغوی معنی: خاص طریقہ، ضابطہ، طرز، وغیرہ ہے۔ جب کہ سنت کا اصطلاحی معنی  محدثین کے نزدیک یہ ہے کہ  سنت ہر وہ قول، فعل، تقریر اور صفت ہے جس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کی جائے۔

    فقہاء کے نزدیک سنت کی تعریف یہ ہے کہ: ہر وہ فعل جس کو نبی کریم ﷺ نے عبادت کی حیثیت سے ہمیشہ کیا ہو اور کبھی کبھار بغیر کسی عذر کے اس کو چھوڑا بھی ہو۔

    لفظ ’’سنت‘‘ جب نبی کریم ﷺ، صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور کبار تابعین استعمال فرماتے ہیں تو اس کا معنی ہوتا ہے:

’’شریعت میں بتایاہوا ہر وہ طریقہ جس کی دین میں پیروی کی جاتی ہے۔‘‘

اس تعریف میں وسعت ہے اور اس میں فقہاء کی اصطلاحیں: واجب، سنت اور مستحب تمام شامل ہیں۔

جیساکہ علامہ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ نے ’’قواعد التحدیث‘‘ میں اس بات کی طرف نشاندہی کی  ہے:

” تنبیہ:  ہم  بیان کرچکے کہ سنت کا لغوی معنی ہے: خاص طرز وانداز، جب کہ صاحبِ شریعت  -علیہ السلام-  اور  ان کے دور  میں سنت  ہر اس چیز کا نام ہے جس کی طرف رہنمائی نبی کریمﷺ کے قول، فعل اور تقریر سے ملتی ہو، اس وجہ سے سنت کو قرآن کریم کے مقابل علیحدہ درجہ دیا گیا، اس حیثیت سے واجب پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جس طرح مستحب پر، اور جہاں تک فقہاء اور اصولیوں کی اصطلاح میں ’’سنت‘‘ کا تعلق ہے تو یہ واجب سے ہٹ کر علیحدہ درجہ ہے، لہٰذا یہ بعد کی اصطلاح ہے اور نیا عرف ہے۔‘‘

   لہٰذا احادیثِ  مبارکہ میں جب ’’من السنة کذا‘‘یا ’’سنتي‘‘ وغیرہ استعمال ہوتے ہیں تو  واجب، سنت اور مستحب تینوں میں سے کوئی بھی حکم اس سے مراد ہوسکتا ہے۔ 

 حاصل یہ ہے کہ  ”سنت“ فقہاء کی اصطلاح میں فرض اور واجب سے کم درجہ رکھتی ہے، جب کہ احادیث میں وارد لفظ ’’سنت‘‘ واجب، سنت اور مستحب تینوں پر بولا جاتا ہے۔

جب کہ   فقہاء کرام ”ادب“ کو خاص ”مستحب“ کے معنی میں بھی ذکر کرتے ہیں، لہذا فقہاءِ  کرام کی ذکر کردہ سنت اور ادب کی تعریف کے مطابق  ”سنت“ کا درجہ اور ثواب ادب  (مستحب)  سے زیادہ ہے۔

دستور العلماء = جامع العلوم في اصطلاحات الفنون (1 / 47):

الْأَدَب: (نكاه داشتن حدهر جيزي) وَجمعه الْآدَاب وَمن كَانَ مؤدبا يكون جَامعا للشريعة النَّبَوِيَّة والأخلاق الْحَسَنَة قَالَ الْعَارِف الْجلَال الرُّومِي رَحْمَة الله عَلَيْهِ فِي المثنوي.

(از خدا جوئيم توفيق ادب ... بِي ادب محروم كشت از لطف رب)

(بِي ادب تنهانه خودراداشت بُد ... بلكه آتش درهمه آفَاق زد)

الْأَدَب: على ضَرْبَيْنِ. أدب النَّفس وأدب الدَّرْس. وَالْأول: احْتِرَاز الْأَعْضَاء الظَّاهِرَة والباطنة من جَمِيع مَا يتعنت بِهِ وَالثَّانِي: عبارَة عَن معرفَة مَا يحْتَرز بِهِ عَن جَمِيع أَنْوَاع الخطابات فِي المناظرة خطابًا ظنيًّا واستدلالًا يقينيًّا."

الفتاوى الهندية (3 / 306):

"الأدب هو التخلق بالأخلاق الجميلة والخصال الحميدة في معاشرة الناس ومعاملتهم."

التعريفات (1 / 15):

"الأدب: عبارة عن معرفة ما يحترز به عن جميع أنواع الخطأ."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 123):

"و قد جرى على ما عليه الأصوليون، وهو المختار من عدم الفرق بين المستحب والمندوب والأدب، كما في حاشية نوح أفندي على الدرر."

قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث (1 / 146):

"تنبيه: ذكرنا أن السنة لغة: الطريقة؛ والمراد بها في اصطلاح الشارع وأهل عصره، ما دل عليه دليل من قوله صلى الله عليه وسلم أو فعله، أو تقريره؛ ولهذا جعلت السنة مقابلة للقرآن، وبهذا الاعتبار تطلق على الواجب، كما تطلق على المندوب وأما ما اصطلح عليه الفقهاء وأهل الأصول من أنها خلاف الواجب فهو اصطلاح حادث، وعرف متجدد."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200665

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں