بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الاول 1443ھ 23 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اکاؤنٹ میں پچیس ہزار روپے رکھ کر سہولتیں وصول کرنا


سوال

بینک والوں نے  مجھے یہ کہا  کہ اگر  پچیس  ہزار  روپے اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں تو آپ کا ون لین چیک  بک  فری ہوگا،  اگر نہیں رکھتے تو آپ سے ہر ون لین پر چار سو  پچاس روپے چارج ہوگا۔ تو کیا یہ پیسے رکھنا اس شرط پر  ہے کہ آپ کو یہ سہولیات فراہم کرے؟

جواب

واضح رہے کہ جو رقم بینک اکاؤنٹ میں رکھی جاتی ہے اُس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور قرض کے عوض میں جو  نفع حاصل کیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے، لہذا اگر آپ اپنے بینک اکاؤنٹ میں پچیس ہزار روپے رکھتے ہیں اور اس کے عوض آپ کو فری چیک بک ملتی ہے  تو یہ سود کے زمرے میں آئے گی؛ لہذا اکاؤنٹ میں پیسے رکھ کر  یہ سہولت اور اس جیسی دیگر سہولتیں  وصول کرنا  حلال نہیں۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَلَا تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ، إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا".

( صحیح البخاری 3814)

ترجمہ: سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ حاضرہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا:  کیا آپ (ہمارے پاس) نہیں آئیں گے  کہ میں آپ کو  ستواورکھجورکھلاؤں اورآپ ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہوں (جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے تھے)  پھر آپ نے فرمایا: تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں، اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اورپھروہ تمہیں ایک تنکے یاجوکے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا؛ کیوں کہ وہ بھی سود ہے۔

"اعلاء السنن" میں ہے: 

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة  أو هدیة فأسلف علی ذلك، إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جر  منفعة، کتاب الحوالة، ط: إدارة القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں