بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

دین کی فکر کے لیے ایک لمحہ بیٹھنا ستر سال کی عبادت سے افضل، روایت کی تحقیق


سوال

کیا دین کی فکر کیلئے ایک لمحہ بیٹھنا  70 سال کی عبادت سے افضل ہے؟  کیا درج بالا بات درست ہے؟  اور دین کی نسبت سے ملنے سے اللہ سب گناہ معاف کر دیتے ہیں؟ اور تبلیغ کا کام کرنے سے اللہ انبیاء کے ساتھ کرسی لگائیں گے قیامت کے دن؟ کیا یہ سب باتیں درست  ہیں؟

جواب

دین کی فکر کے لیے ایک لمحہ بیٹھنا ستر سال کی عبادت سے افضل:

شیخ اسماعیل حقی بن مصطفی الاستانبولی(1127ھ) نے تفسیر" روح البنان" میں ایک طویل حدیث بلا سند، صیغہ مجہول (رُوِیَ ) کے ساتھ ذکر کی ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں :

"عن المقداد بن الاسود، دخلت علی ابی بکر رضی الله عنه ، فسمعته یقول: قال رسول الله ﷺ  تفکر ساعة خیر من عبادة سبعین سنة."

(تفسیر روح البیان، سورة الجاثیة، الآیة: ۱۳، ۸ /۵۹۳، ط: دار احیاء التراث العربی)

ہمیں اس روایت کی کوئی سند نہیں مل سکی، اور جس روایت کی کوئی سند نہ ہو وہ بے اصل ہوتی ہے ، اس کا اعتبار نہیں ہوتا ، جیسا  کہ "المصنوع" کے مقدمہ میں شیخ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ الله تعالی (1417ھ)فرماتے ہیں:

"واذا کان الحدیث لا اسناد له فلا قیمة له، ولا یلتفت الیه، اذ الاعتماد فی نقل کلام سیدنا رسول الله ﷺ الینا انما هو علي الاسناد الصحیح الثابت او مایقع موقعه، وما لیس کذلک فلا قیمة له."

(المصنوع فی معرفة الحدیث الموضوع ، ص: ۱۸، ط: ایچ ایم سعید کمپنی)

لہذا جوستر کا عدد ہے، وہ سنداً ثابت نہیں ۔ مگر ستر کے علاوہ اس معنی میں یا دوسرے عدد میں اور بھی روایات پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ"كتاب العظمة "میں شیخ اصبہانی رحمہ الله تعالی (369ھ) نے ساٹھ کے عدد کے ساتھ روایت ذکر کی ہے:

"قال: عبد الله بن محمد بن زکریا حدثنا عثمان بن عبد الله القرشی حدثنا اسحاق بن نجیح الملطی حدثنا عطاء الخراسانی عن ابی هریرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "فکرة ساعة خیر من عبادة ستین سنة."

(کتاب العظمة ، ماذکر من الفضل فی المتفکر فی ذلک ، رقم الحدیث: ۲۰۴۳، ۱/۲۹۹، ط: دار العاصمۃ ریاض)

اس روایت کی سند میں جو "اسحاق بن نجیح الملطی" ہيں، ان کو علماء نے شدید ضعیف کہا ہے، چنانچہ علامہ ذہبی رحمه الله تعالی (748ھ) نے "میزان الاعتدال" میں ان کے متعلق علماء کے اقوال نقل کیے ہیں:

"قال أحمد: هو من أكذب الناس.

وقال يحيى: معروف بالكذب ووضع الحديث.

وقال النسائي والدار قطني: متروك.

وقال الفلاس: كان يضع الحديث صراحا."

(ميزان الإعتدال، رقم: 755، 1/205، ط: الرسالة العلمية)

لہذا اس راوی کے شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے اس روایت کو فضائل میں بیان نہیں کر سکتے؛ کیونکہ کسی روایت کو فضائل میں بیان کرنے کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، جیسا کہ علامہ سخاوی رحمہ اللہ تعالی (902ھ)نے "القول البدیع" میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی(852ھ)  سے ضعیف حدیث پر فضائل میں عمل کرنے کے لئے ایک  اتفاقی شرط یہ بیان کی ہے کہ وہ روایت ضعف ِشدید سے خالی ہو:

"قال: سمعت شيخنا ابن حجر أي العسقلاني المصري مرارا، وكتبه لي بخطه، يقول: شرط العمل بالحديث الضعيف ثلاثة: الأول : متفق عليه، وهو أن يكون الضعف غير شديد، فيخرج من انفرد من الكذابين والمتهمين ومن فحش غلطه...."

(القول البديع، خاتمة، ص: 496، ط: دار السير، دار المنهاج)

لہذا اس روایت پر بھی ضعف شدید کی وجہ  سے عمل نہیں کر سکتے۔

اسی طرح علامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالی( 911ھ) نے"اللآلی المصنوعة" میں  ایک روایت نقل کی ہے کہ دن اور رات کے اختلاف میں غور وفکر کرنا، ایک ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے، چناں چہ فرماتے ہیں:

"قال الديلمي: أنبأنا احمد بن نصر أنبأنا  طاهر بن ملة حدثنا صلاح بن أحمد حدثنا علي بن إبراهيم القزويني حدثنا إبراهيم بن إسحاق النيسابوري حدثنا محمد بن جعفر الودكاني حدثنا سعيد بن مسيرة سمعت أنس بن مالك يقول: تفكر ساعة في اختلاف الليل والنهار خير من عبادة ألف سنة."

(اللآلي المصنوعة، كتاب الأدب والزهد، 2/276، ط: دار الكتب العلمية)

اس روایت میں موجود راوی "سعید بن مسیرۃ" شدید ضعیف ہے، جس کے بارے میں حافظ ابن حجررحمہ الله تعالي نے "لسان المیزان" میں علماء کے اقوال نقل کيے ہیں:

"قال : قال البخاري: عنده مناكير، وقال أيضا: منكر الحديث.

وقال ابن حبان: يروي الموضوعات.

وقال الحاكم: روى عن أنس موضوعات.

وكذبه يحي القطان."

(لسان الميزان، رقم: 3490،  4/28، ط: دار البشائر الإسلامية)

لہذا اس راوی کے شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ روایت بھی قابل اعتبار نہیں۔

البتہ ایک اور موقوف روایت شیخ اصبہانی رحمہ اللہ تعالي(369ھ) نے "کتاب العظمة" میں ذکر کی ہے:

"قال: حدثنا جعفر بن عبد الله بن المصباح، حدثنا محمد بن حاتم المؤدب، حدثنا عمار بن محمد، عن ليث ، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال: "تفكر ساعة خير من قيام ليلة."

(كتاب العظمة، ماذكر من الفضل في المتفكر في ذلك، 1/298، ط: دار العاصمة)

اس روایت میں کوئی بھی راوی شدید ضعیف نہیں لہذا اس روایت کو موقوفا انہی الفاظ کے ساتھ بیان کرنا درست ہے۔

دین کی نسبت سے ملنے سے گناہوں کی مغفرت:

دین کی نسبت کا ذکر تو احادیث میں نہیں ملتا، البتہ مطلقا  یہ الفاظ ہیں کہ جب دو مسلمان آپس میں  ملتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے اللہ ان کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔  مسند احمد میں روایت موجود ہے:

"حدثنا محمد بن بكر ، حدثنا ميمون المرئي حدثنا ميمون بن سياه عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من مسلمين التقيا فأخذ بيد صاحبه إلا كان حقا على الله ان يحضر دعاء هما ولا يفرق بين أيديهما حتى يغفر لهما."

(مسند احمد، رقم الحديث: 12451، 19/436، ط: مؤسسة الرسالة)

دراسة الإسناد:

"محمد بن بكر: قال حافظ ابن حجر: صدوق قد يخطئ ، من التاسعة ، مات سنة اربع ومائتين."

(تقريب التهذيب، رقم: 5760، ص: 500 ، ط: كتب خانه رشيدية)

"ميمون المرئي: قال ايضا: ميمون بن موسى ويقال ابن عبد الرحمن بن صفوان بن قدامة المرائي ،  بفتحتين وهمزة، ابو موسى البصري، صدوق مدلس، من السابعة."

(رقم : 7050، ص: 585)

"ميمون بن سياه: وقال ايضا:  بكسر المهملة بعدها تحتانية، البصري، ابوبحر، صدوق، عالد، يخطئ ، من الرابعة."

(رقم : 7045، ص: 585)

مذکورہ حدیث کی سند حسن درجہ کی ہے۔

اور اس روایت کے علاوہ ایک اور روایت بھی  "ابو داود" میں موجود ہے جس سے اس روایت کو تقویت ملتي  ہے:

"قال: حدثنا ابوبكر بن شيبة حدثنا ابو خالد وابن نمير، عن الأجلح عن أبي إسحاق عن البراء قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم مامن مسلمين يلتقيان فيتصافحان إلا غفر لهما قبل ان يفترقا."

(سنن أبي داود، كتاب الأدب ، باب المصافحة، رقم الحديث : 5212، 2/367، ط: مكتبه رحمانية)

تبلیغ کا کام کرنے سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کرسی:

کافی تلاش کے باوجود اس طرح کی کوئی بھی روایت  نہیں ملی جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ تبلیغ کا کام کرنے سے اللہ تعالی قیامت کے دن انبیاءعلیہم السلام  کے ساتھ کرسی لگائیں گے، لہذا جب تک کوئی معتبر سند نہ مل جائے، تب تک ایسی روایت بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں