بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ابوجہل کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا رشتہ تھا؟


سوال

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ابو جہل  سے کیا رشتہ تھا؟

جواب

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی والدہ حنتمہ کا تعلق  قبیلہ  بنومخزوم سے تھا، قبیلہ بنومخزوم   کے سردار  مغیرہ  کاسلسلہ نسب یہ  ہے:مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ۔

اہل ِ انساب نے مغیرہ کے  دوبیٹوں کا ذکر کیا ہے :

۱۔ہشام بن مغیرہ۲۔ہاشم بن  مغیرہ ۔

ابو جہل ان میں سے  ہشام  کا بیٹاتھا،اس اعتبار سے اس  کاسلسلہ نسب یہ ہے:ابو جہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ   کی والدہ  ، مغیرہ کے دوبیٹوں میں سےہشام کی بیٹی ہیں یاہاشم کی؟اس بارے میں اہل انساب کے دو قول ہیں:

۱۔اکثر اہل ِ  انساب نے آپ کا سلسلہ نسب یوں بیان کیا ہے:حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اللہ بن مخزوم۔(یعنی  آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ حنتمہ ،ہاشم کی بیٹی ہیں،  اس اعتبار سے وہ ابو جہل کی چچازاد  بہن ہیں او ر ابو جہل  ان کا چچازاد بھائی ہو نےکی وجہ سے رشتے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ماموں ہے)۔

۲۔بعض اہلِ انساب نے آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ  کا سلسلہ نسب یوں بیان  کیا ہے:حنتمہ  بن ہشام بن مغیرہ بن عبد اللہ بن مخزوم۔(یعنی  آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ حنتمہ، ہشام کی بیٹی ہیں،اس  اعتبار سے وہ ابو جہل کی سگی بہن ہیں اور ابو جہل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سگا ماموں ہے)۔

 حافظ  ابو عمر قرطبی رحمہ اللہ نے"الاستيعاب في معرفة الأصحاب" میں  مذکورہ دونوں قولوں میں سے پہلے قول کو صحیح قراردیا ہے، حافظ ابن ِ اثیر جزری رحمہ اللہ نےبھی"أسد الغابة"  میں ،اور حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نےبھی "الإصابة في معرفة الصحابة"میں  اسی پر اعتماد  کیا ہے۔حافظ ابوعمر قرطبی رحمہ اللہ دوسرے قول کے متعلق  لکھتے ہیں:

"وقالتْ طائفةٌ في أمّ عمر: حنتمة بنت هشام بن المغيرة. ومَن قال ذلك فقد أخطأ، ولو كانتْ كذلك لكانتْ أخت أبي جهل بن هشام والحارث بن هشام بن المغيرة، وليس كذلك، وإنما هي ابنة عمّهما، فإنّ هاشم بن المغيرة وهشام بن المغيرة أخوان، فهاشم والد حنتمة أم عمر، وهشام والد الحارث وأبي جهل، وهاشم بن المغيرة هذا جد عمر لأمه، كان يُقال له ذو الرمحين".

ترجمہ:

’’نیز (اہل ِ انساب کی) ایک جماعت نے( حضرت ) عمر رضی اللہ عنہ کی والدہ (کے سلسلہ نسب )کے بارے میں کہا ہے:حنتمہ بنتِ ہشام بن مغیرہ ۔اور جس نے یہ کہا ہے اس سے غلطی  ہوئی ہے،اگر  سلسلہ نسب اس طرح ہو  تو وہ  ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام  کی بہن ہوتی ہیں ،حالاں کہ  حقیقت میں ایسا نہیں  ہے،بلکہ وہ تو ان دونوں کے چچا(ہاشم) کی بیٹی ہیں ؛ اس لیے کہ ہاشم بن مغیرہ اور ہشام بن مغیرہ دونوں بھائی ہیں،ہاشم ( حضرت) عمر رضی اللہ عنہ  کی والدہ حنتمہ کے والد ہیں،اورہشام حارث اور ابو جہل کے والد ہیں۔اور ہاشم بن مغیرہ (حضرت) عمررضی اللہ کا ناناتھا، اسے ذو الرمحین کہاجاتا تھا‘‘۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم  ہوا کہ صحیح قول کے مطابق  ابو جہل، حضرت عمر  بن خطاب رضی اللہ عنہ کی والدہ حنتمہ کاچچازاد  بھائی ہے،اور ان کاچچازاد بھائی ہونے کی وجہ سے  وہ رشتے میں حضرت عمر بن خطاب  رضی  اللہ عنہ کا ماموں ہے۔

"الاستيعاب في معرفة الأصحاب"میں ہے:

"عمر بن الخطّاب أمير المؤمنين -رضي الله عنه- بن نفيل بن عبد العزّى بن رباح بن عبد الله بن قرط بن رزاح بن عدي بن كعب القُرشي العدوي أبو حفصٍ. أمه: حنتمة بنت هاشم بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم. 

وقالتْ طائفةٌ في أمّ عمر: حنتمة بنت هشام بن المغيرة. ومَن قال ذلك فقد أخطأ، ولو كانتْ كذلك لكانتْ أخت أبي جهل بن هشام والحارث بن هشام بن المغيرة، وليس كذلك، وإنما هي ابنة عمّهما، فإنّ هاشم بن المغيرة وهشام بن المغيرة أخوان، فهاشم والد حنتمة أم عمر، وهشام والد الحارث وأبي جهل، وهاشم بن المغيرة هذا جد عمر لأمه، كان يُقال له ذو الرمحين".

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب، باب عمر، ترجمة:عمر بن الخطاب، 1/354)

"أسد الغابة"میں ہے:

"عمر بن الخطاب بن نفيل بن عبد العزى بن رياح بن عبد الله بن قرط ابن رزاح ابن عدي بن كعب بن لؤي القرشي العدوي أبو حفص. وأمه: حنتمة بنت هاشم بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم، وقيل: حنتمة بنت هشام ابن المغيرة، فعلى هذا تكون أخت أبي جهل، وعلى الأوّل تكون ابنة عمه. قال أبو عمر: ومَن قال ذلك يعني بنت هشام فقد أخطأ، ولو كانتْ كذلك لكانتْ أخت أبي جهل والحارث ابني هشام، وليس كذلك، وإنما هي ابنة عمّهما؛ لأنّ هشاماً وهاشماً ابني المغيرة أخوان فهاشم والد حنتمة، وهشام والد الحارث وأبي جهل، وكان يُقال لِهاشمٍ: جدُّ عمر ذو الرمحين. وقال ابنُ منده: أم عمر أخت أبي جهل. وقال أبو نعيم: هي بنتُ هشام أخت أبي جهل، وأبو جهل خاله، ورواه عن ابن إسحاق. وقال الزبير: حنتمة بنتُ هاشم، فهي ابنة عم أبي جهل، كما قال أبو عمر".

(أسد الغابة، ج:4، ص:156-157، ط: دار إحياء التراث العربي-بيروت)

"الإصابة في معرفة الصحابة"میں ہے:

"عمر بن الخطاب بن نفيل القرشي العدوي -رضي الله عنه-: ابن عبد العزى بن رياح -بالتحتانية- ابن عبد الله بن قرط بن رزاح- بمهملة ومعجمة وآخره مهملة- ابن عدي بن كعب بن لؤي بن غالب القرشي العدوي أبو حفص أمير المؤمنين. وأمه: حنتمة بنتُ هاشم بن المغيرة المخزوميّة، كذا قال ابن الزبير. وروى أبو نُعيم من طريق ابن إسحاق أنّها بنتُ هشام أخت أبي جهل".

(الإصابة في معرفة الصحابة، ذكر من اسمه عمر، ج:2، ص:576-577، ط: دارالجيل)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503102781

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں