بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

عبد الرحمن کو رحمن کہنا اور سننا


سوال

کیا عبد الرحمن کو ر حمن کہنے والے اور سننے والےکوگناه ملے گا؟

جواب

اگر کسی کا نام عبدالرحمن ہو تو اسے رحمن  کہہ کر پکارنا جائز نہیں ہے،کسی سے اگر  اس طرح کی پکار  اگر سن لی جائے تو اسے اس طرح پکارنے سے  منع کر دینا چاہیے، جو شخص سن رہا ہو اور وہ منع نہ کرے اور نہ دل میں برا سمجھے تو اس صورت میں وہ بھی گناہ گار  ہوگا ،چاہے وہ شخص سن رہاہو جس کا اپنا نام ہے یا کوئی اور شخص سنے ،البتہ جس کا اپنا نام عبد الرحمن ہو اس کے لیے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے نام   میں تحریف کرنے والے کو روکے اور منع کرے ۔

حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ  ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’ عبد کا لفظ ہٹاکر اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ بندے کو پکارنا نہایت قبیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نام دو قسم کے ہیں:ایک قسم ان اسمائے مبارکہ کی ہے جن کا استعمال دُوسرے کے لیے ہو ہی نہیں سکتا، جیسے:اللہ، رحمن، خالق، رزّاق وغیرہ۔ ان کا غیراللہ کے لیے  استعمال کرنا قطعی حرام اور گستاخی ہے، جیسے کسی کا نام’’عبداللہ‘‘ہو اور’’عبد‘‘کو ہٹاکر اس شخص کو ’’اللہ صاحب‘‘کہا جائے، یا ’’عبدالرحمن‘‘کو’’رحمن صاحب‘‘ کہا جائے، یا ’’عبدالخالق‘‘ کو’’خالق صاحب‘‘ کہا جائے، یہ صریح گناہ اور حرام ہے۔ اور دُوسری قسم ان ناموں کی ہے جن کا استعمال غیراللہ کے لیے بھی آیا ہے، جیسے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’روٴف رحیم‘‘ فرمایا گیا ہے، ایسے ناموں کے دُوسرے کے لیے بولنے کی کسی حد تک گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن ’’عبد‘‘ کے لفظ کو ہٹاکر اللہ تعالیٰ کا نام بندے کے لیے  استعمال کرنا ہرگز جائز نہیں۔ بہت سے لوگ اس گناہ میں مبتلا ہیں اور یہ محض غفلت اور بے پروائی کا کرشمہ ہے۔ ‘‘

(آپ کے مسائل8/269،ط:مکتبہ لدھیانوی)

مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ایسا کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں ہوتا‘‘۔

(تفسیر معارف القرآن، تفسیر آیت ۱۸۰،ص ۱۳۲، ج ۴)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں