بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شیخ عبد الوہاب نجدی کون تھے؟


سوال

محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں ذہن میں الجھن پیدا ہوئی ہے خارجی ہے یا مجدديا مبتدع یا بلید شکریہ" كماعده الشامي والسهارنبوري من الخوارج ووصفه الكشميري بالبلادة ومال الندوي الي انه مجدد."

جواب

محمد بن عبد الوہاب نجدی  اور ان کے متبعین مسلمان ہیں، یہ بعض مسائل میں متشدد اور متفرد ہیں، حنبلی مسلک کے پیروکار کہلاتے ہیں، لیکن بہت سے مسائل میں ان کا تفرد ہے، اور  چند جزوی باتوں میں ان کا مؤقف اہلِ سنت والجماعت سے بھی مختلف ہے، مثلاً توسلِ شرعی کا انکار، رسولِ اقدس ﷺ کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنے کو حرام جاننا، بعض آیاتِ قرآنیہ کی بے محل تاویل کرنا وغیرہ،  اس لیے ان کا ان مسائل میں اتباع جائز  نہیں ہے، البتہ  ان کی تکفیر بھی درست نہیں ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے  ان کو خوارج میں شمار کیا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے خلافت اور امام المسلمین کے خلاف بغاوت کی تھی، اور بے جا تشدد کرتے تھے،  لیکن ان کے تمام عقائد اصل خوارج جیسے نہیں تھے، بلکہ بعض چیزوں میں خوارج جیسے افعال کی بنا پر  علامہ شامی رحمہ اللہ نے انہیں خوارج سے تعبیر کیا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في أتباع عبد الوهاب الخوارج في زماننا (قوله: ويكفرون أصحاب نبينا صلى الله عليه وسلم) علمت أن هذا غير شرط في مسمى الخوارج، بل هو بيان لمن خرجوا على سيدنا علي -رضي الله تعالى عنه -، وإلا فيكفي فيهم اعتقادهم كفر من خرجوا عليه، كما وقع في زماننا في أتباع عبد الوهاب الذين خرجوا من نجد وتغلبوا على الحرمين وكانوا ينتحلون مذهب الحنابلة، لكنهم اعتقدوا أنهم هم المسلمون وأن من خالف اعتقادهم مشركون، واستباحوا بذلك قتل أهل السنة وقتل علمائهم حتى كسر الله تعالى شوكتهم وخرب بلادهم وظفر بهم عساكر المسلمين عام ثلاث وثلاثين ومائتين وألف (قوله: كما حققه في الفتح) حيث قال: وحكم الخوارج عند جمهور الفقهاء والمحدثين حكم البغاة. وذهب بعض المحدثين إلى كفرهم. قال ابن المنذر: ولا أعلم أحدا  وافق أهل الحديث على تكفيرهم، وهذا يقتضي نقل إجماع الفقهاء".

(باب البغاة جلد4 ص:262، ط: سعید)

فيض الباري میں ہے:

"أما محمد بن عبد الوهاب النجدي فإنه كان رجلاً بليداً قليل العلم، فكان يتسارع إلى الحكم بالكفر ولاينبغي أن يقتحم في هذا الوادي إلا من يكون متيقظاً متقناً عارفاً بوجوه الكفروأسبابه". 

(جلد 1 ص: 244)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"گزشتہ صدی میں عرب میں ایک شخص محمد بن عبد الوہاب نامی نے ایک جماعت بنائی تھی اوردعوی یہ کیا تھا کہ ہم سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، اس کے ساتھ بہت لوگ ہوگئے تھے مگر اس کے مسائل بہت سے خلاف سنت تھے ، آہستہ آہستہ لوگوں کو ان مسائل کا علم ہوا ، مثلا وہ توسل کے قائل نہیں تھے،زیارت قبور کے لیے سفر کرنے کو ناجائز کہتے تھے حتی کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کو ناجائز کہتے تھے، وغیرہ وغیرہ۔"

(باب البدعات والرسوم، جلد 3 ص: 40 ، 41، 42، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

کفایت المفتی میں ہے:

"فرقہ وہابیہ کی ابتداء محمد بن عبد الوہاب نجدی سے ہوئی ، یہ شخص حنبلی مذہب رکھتے تھے مزاج میں سختی زیادہ تھی، ان کے خیالات اور اعتقادات کے متعلق مختلف روایات سنی جاتی  ہیں ، حقیقتِ حال خدا تعالی کو معلوم ہے۔"

(کتاب العقائد ،جلد 1 ص:203، ط : دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101782

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں