بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی کے لیے مجہول اُجرت پر چيز فروخت كرنا


سوال

زید کی ملکیت میں ایک مکان ہے  اس مکان کو فروخت کرنے کے لیے زید عمرو سے کہتا ہے کہ آپ اس مکان کو فروخت کردو دس  لاکھ  روپے  مجھے  دے  دو ،باقی  آپ کے ہوں گے  تو اب عمرو بارہ لاکھ روپے  میں مشتری سے بات کردیتا ہے ، اور زید سے کہتا ہے کہ آپ مشتری سے بارہ لاکھ روپے وصول کرکے مکان مشتری کے حوالہ کردیں ۔تو اس طرح معاملہ کا کیا حکم ہے ؟اور عمرو  نےجو دو لا کھ  روپےنفع حاصل کیا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زید کا عمرو سے  یہ کہنا کہ "آپ اس مکان کو فروخت کردو ، دس لاکھ روپے مجھے دیدو ،باقی آپ     کےہوں گے" یہ عمرو کو  مجہول اجرت  (کمیشن) پر  وکیل بنانا ہے ، اور شرعًا اس طرح کامعاملہ  کرنا درست نہیں ،اگر  مذکورہ  معاملہ  دونوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں عمرو  اجرتِ مثل(یعنی عام طور پر   مارکیٹ میں اس طرح کا مکان فروخت کرنے پر جو اجرت ملتی ہے ) کا حق دار ہو گا۔

نتف فی الفتاوی میں ہے:

"و الخامس إجارة السمسار لايجوز ذلك و كذلك لو قال: بع هذا الثوب بعشرة دراهم فما زاد فهو لك و إن فعل فله أجر المثل."

(النتف في الفتاوى (2/ 575)

عمدة القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"و قال ابن عباس: لا بأس أن يقول: بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك...و قال ابن سيرين: إذا قال: بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به...وفي (التلويح) : وأما قول ابن عباس وابن سيرين فأكثر العلماء لايجيزون هذا البيع، وممن كرهه: الثوري والكوفيون."

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (12/ 93)

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"باب أجر السمسرة:ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأساوقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به قوله: "باب أجر السمسرة" أي حكمه وهي بمهملتين. قوله: "ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأسا" أما قول ابن سيرين وإبراهيم فوصله ابن أبي شيبة عنهما بلفظ: "لا بأس بأجر السمسار إذا اشترى يدا بيد" وأما قول عطاء فوصله ابن أبي شيبة أيضا بلفظ: "سئل عطاء عن السمسرة فقال لا بأس بها" وكأن المصنف أشار إلى الرد على من كرهها، وقد نقله ابن المنذر عن الكوفيين. قوله: "وقال ابن عباس: لا باس أن يقول بع هذا الثوب، فما زاد على كذا وكذا فهو لك" وصله ابن أبي شيبة من طريق عطاء نحوه، وهذه أجر سمسرة أيضا لكنها مجهولة ولذلك لم يجزها الجمهور وقالوا: إن باع له على ذلك فله أجر مثله، وحمل بعضهم إجازة ابن عباس على أنه أجراه مجرى المقارض، وبذلك أجاب أحمد وإسحاق ونقل ابن التين أن بعضهم شرط في جوازه أن يعلم الناس ذلك الوقت أن ثمن السلعة يساوي أكثر مما سمى له، وتعقبه بأن الجهل بمقدار الأجرة باق. قوله: "وقال ابن سيرين: إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فلك أو بيني وبينك فلا بأس به" وصله ابن أبي شيبة أيضا من طريق يونس عنه، وهذا أشبه بصورة المقارض من السمسار."

(فتح الباري لابن حجر 4/451)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتوی نمبر : 144303100057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں