بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عبد الباری نام رکھنے کا حکم اور اس کا معنی


سوال

میرے گھر الحمداللہ بیٹے کی ولادت ہوئی ہے اور نام عبدالباری رکھنا چاہتاہوں، براۓ مہربانی رہنمائی فرمادیں۔

جواب

عبدالباری نام رکھنادرست ہے،اس کامعنی ٰ ہے:پیدا کرنے والے کابندہ،جب یہ نام رکھ لیاجائے توپورانام پکاراجائے، صرف باری نہ کہاجائے ۔

امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے  ہیں:

" البارئ، المنشئ للأعيان من العدم إلى الوجود ".

(تفسير البغوی ،[الحشر:24 ](5/ 67)ط:دار إحياء التراث )

امام بیضاوی رحمہ  اللہ فرماتے ہیں:

"هو الله الخالق المقدر للأشياء على مقتضى حكمته. البارئ الموجد لها بريئا من التفاوت".

(تفسير البيضاوی = أنوار التنزيل وأسرار التأويل[الحشر:24 ] (5/ 203)ط:دار إحياء التراث )

شرح النووي على مسلم میں ہے:

"وأعلم أن التسمي بهذا الاسم حرم وكذلك التسمي بأسماء الله تعالى المختصة به كالرحمن والقدوس والمهيمن وخالق الخلق ونحوها".

(شرح النووي على مسلم ،کتاب الآداب،باب تحريم التسمى بملك الاملاك أو بملك الملوك  (14/ 121)ط: دار إحياء التراث العربي )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101906

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں