بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

’’عبد المحسن‘‘ نام رکھنے کا حکم


سوال

شریعتِ  مطہرہ کی رو سے "عبدالمحسن" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

متعدد روایات  سے  یہ بات ثابت ہے کہ ’’المحسن‘‘ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے اور اس کا معنیٰ ہے’’ احسان کرنے والا‘‘؛  اس لیے ’’عبد المحسن‘‘ نام رکھنا درست ہے۔

مصنف عبد الرزاق الصنعاني (4/ 492):

’’ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنَعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ مُحْسِنٌ يُحِبُّ الْإِحْسَانَ إِلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ».‘‘

الجامع الصحيح للسنن والمسانيد (10/ 184):

’’ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:(" إِنَّ اللهَ مُحْسِنٌيُحِبُّ الْإِحْسَانَ).‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200468

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں