بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

ابدال کا تعارف


سوال

ابدال کسے کہتے ہیں؟

جواب

"ابدال" اللہ کےبعض  نیک بندوں اولیا ء اللہ میں سے برگزیدہ جماعت  کا نام ہے، احادیث میں ابدال کے متعلق اس قدر تذکرہ ملتا ہے کہ کائنات میں "ابدال" کاوجود پایاجاتاہے اورکوئی وقت ایسانہیں گزرتا جب کائنات ان کے وجود سے خالی ہو، ان حضرات کاوجود کائنات کے لیے رحمت ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں پائے جاتے ہیں، جب کہ بعض روایات سے  بالخصوص ان کا ملکِ شام میں پایا جانا معلوم ہوتا ہے۔

چنانچہ  "مسند احمد"  کی روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے  فرمایا : میں نے  جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ملک شام میں چالیس ابدال ہوتے ہیں، جب ان میں سے کسی ایک کی وفات ہوجاتی ہے توان کی جگہ دوسرے کو قائم مقام کر دیا جاتا ہے، اور انہیں کی برکت اور دعاوٴں سے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اور کفار اور دشمنوں کے خلاف اہلِ شام کی مدد کرتا ہے اور انہیں کی برکت سے اہلِ شام کے اوپر سے عذاب کو دور فرماتا ہے۔

ایک اور روایت میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: زمین کسی وقت بھی چالیس ابدال سے خالی نہیں ہوتی ، جب ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو مقرر کردیتے ہیں ۔

"المقاصدالحسنۃ" میں ہے :

"حدیث الأبدال له طرق عن أنس رضي اللّه عنه مرفوعاً بألفاظ مختلفة کلها ضعیفة، منها …الأبدال أربعون رجلاً. ومنها… لن تخلوالأرض من أربعین رجلاً …ومنها… البدلاء أربعون… ومنها…لایزال أربعون رجلاً من أمتي… ومنها… أن بدلاء أمتي. ومنها … البدلاء یکونون بالشام وهم أربعون رجلاً… ومنها… لاتسبوا أهل الشام جماً غفیراً، فان فیها الأبدال… ومنها: أین بدلاء أمتک؟ فأومأ بیده بنحو الشام…".

(المقاصد الحسنة ص۲۳رقم۸)

"مسند احمد بن حنبل" میں ہے :

"حدثنا أبو المغیرة حدثنا صفوان حدثني شریح یعني ابن عبید قال:ذکر أهل الشام عند علي بن أبي طالب وهو بالعراق فقالو: العنهم یا أمیر المؤمنین: قال: لا، إني سمعت رسول اللّه صلی اللّه علیه وسلم یقول: الأبدال یکونون بالشام، وهم أربعون رجلاً، کلما مات رجل أبدل اللّه مکانه رجلاً، یسقي بهم الغیث، وینصر بهم علی الأعداء، ویصرف عن أهل الشام بهم العذاب…
قال أحمد محمد شاکر في شرح هذا الحدیث: إسناده ضعیف؛ لانقطاعه. شریح بن عبید الحضرمي الحمصي:لم یدرک علیاً، بل لم یدرک الابعض متأخري الوفاة من الصحابة وقدسبقت له روایة منقطعة أیضاً عن عمر بهذا الإسناد ۱۰۷، وسیأتي في شانهم حدیث آخر في مسند عبادة بن الصامت۵:۳۲۲قال فیه أحمد هناک:وهومنکر".

(المسند للإمام أحمد بن حنبل۲/۱۷۱/۸۹۶)

مستدرک حاکم میں ہے :

"أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العنزي ثنا عثمان بن سعید الدارمي ثنا سعید بن أبي مریم أنبأ نافع بن یزید حدثني عیاش بن عباس أن الحارث بن یزید حدثه أنه سمع عبد اللّه بن زریرالغفقی یقول: سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه ستکون فتنة یحصل الناس منها کما یحصل الذهب في المعدن، فلاتسبوا أهل الشام، وسبوا ظلمتهم، فإن فیهم الأبدال…الخ وقال: هذا حدیث صحیح الإسناد ولم یخرجاه، ووافقه الذهبي، فقال: صحیح".

(المستدرک للحاکم ۴/۵۵۳ )

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200427

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں